Wednesday, May 27, 2026 | 09 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • بائیجوز کے بانی بائیجو رویندرن کو سنگاپور میں 6 ماہ قید کی سزا، بھاری جرمانہ بھی عائد

بائیجوز کے بانی بائیجو رویندرن کو سنگاپور میں 6 ماہ قید کی سزا، بھاری جرمانہ بھی عائد

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 27, 2026 IST

بائیجوز کے بانی بائیجو رویندرن کو سنگاپور میں 6 ماہ قید کی سزا، بھاری جرمانہ بھی عائد
بائیجوزکے بانی 'بائیجو رویندرن' کو سنگاپور کی ایک عدالت نے  توہین عدالت کا مجرم قرار دیتے ہوئے 6 ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے پایا کہ رویندرن اپریل 2024 سے اپنے اثاثوں سے متعلق ایک کیس کی تحقیقات میں عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
 
ساتھ ہی عدالت نے انہیں 90,000 سنگاپور ڈالر (تقریباً 70,500 امریکی ڈالر) کا قانونی خرچہ ادا کرنے اور فوری طور پر سرینڈر کرنے کا حکم دیا ہے۔ 
 
اس کے علاوہ، عدالت نے انہیں 'Beeaar Investco Pte' پر اپنے قانونی مالکانہ حقوق ثابت کرنے والے دستاویزات پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
 
کیوں ہوئی یہ کاروائی؟
 
رپورٹس کے مطابق بائیجو رویندرن نے اپریل 2024 سے اپنے اثاثوں اور جائیدادوں (Assets) سے جڑے کئی عدالتی احکامات پر عمل نہیں کیا۔ اسی وجہ سے عدالت نے انہیں سخت رخ اپناتے ہوئے حکام کے سامنے فوری طور پر سرینڈر کرنے کا حکم دیا ہے۔
 
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، سنگاپور میں رویندرن  کے خلاف یہ  کاروائی 'قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی 'کی ذیلی کمپنی قطر ہولڈنگز کی شکایت پر ہوئی ہے۔ قطر ہولڈنگز نے بائی جوز میں اس وقت سرمایہ کاری کی تھی جب وہ چھٹنی اور ڈاؤن سائزنگ کا سامنا کر رہی تھی۔
 
جیل کی سزا کے ساتھ ساتھ عدالت نے رویندرن پر  مالی و قانونی پابندیاں بھی عائد کی ہیں،انہیں کچھ انتہائی اہم اور ضروری مالیاتی دستاویزات عدالت میں جمع کرانے کا پابند کیا گیا ہے۔
 
کبھی اسٹارٹ اپ دنیا کا ایک بڑا اور چمکتا ہوا نام:
 
بائیجوز ایک وقت میں بھارت کے سب سے بڑے اور کامیاب اسٹارٹ اپس میں شمار کی جاتی تھی۔ آن لائن ایجوکیشن (تعلیم) کے شعبے میں کمپنی نے بہت تیزی سے اپنا نیٹ ورک پھیلایا اور ملک گیر شناخت بنائی۔ کمپنی کو دنیا بھر کے نامور سرمایہ کاروں سے اربوں ڈالر کی فنڈنگ حاصل ہوئی، جس کی بدولت اس نے امریکہ اور دیگر کئی ممالک میں اپنا بزنس بڑھایا۔ خاص طور پر کورونا وبا کے دور میں بائیجوز کی مقبولیت عروج پر پہنچ گئی تھی اور اسے بھارتی بزنس ورلڈ کا سب سے بڑا چہرہ مانا جانے لگا تھا۔
 
گزشتہ دو سالوں میں بڑھیں مسلسل مشکلات:
 
تاہم، کورونا کا بوم ختم ہوتے ہی گزشتہ دو سالوں کے دوران کمپنی شدید بحران کا شکار ہو گئی۔ بائیجوز کو یکے بعد دیگرے کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، جن میں :کمپنی کے پاس روزمرہ کے اخراجات اور قرض چکانے کے لیے پیسوں کی شدید قلت ہو گئی۔مالی توازن برقرار رکھنے کے لیے کمپنی کو بڑے پیمانے پر اپنے ملازمین کو نوکریوں سے نکالنا پڑا۔فنڈز کے درست استعمال اور آڈٹ رپورٹس میں تاخیر کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ کمپنی کے تعلقات بگڑ گئے۔
 
امریکہ سمیت مختلف ممالک میں بڑے قرضوں (قریب 1.2 ارب ڈالر کے لون) کی وصولی کو لے کر قرض خواہوں نے بائیجوز کے خلاف قانونی محاذ کھول دیا، جس کے شدید دباؤ کے باعث کمپنی کی مالی حالت دن بہ دن خراب ہوتی چلی گئی۔