مشہور اسلامک اسکالر مولانا عبدالرحمن طویل قانونی لڑائی اور زندگی کے قیمتی 10 سال جیل میں گزارنے کے بعد بالآخر دہشت گردی کے تمام الزامات سے با عزت بری ہو گئے ہیں۔ اسپیشل سیشن کورٹ نے ان کے خلاف دائر مقدمات میں عدم ثبوت کی بنیاد پر انہیں بری کرنے کا فیصلہ سنایا۔ واضح رہے کہ مولانا عبدالرحمن کو دہشت گرد تنظیم 'القاعدہ' سے مبینہ تعلقات کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان کے خلاف دہلی، جمشید پور اور کٹک میں تین الگ الگ مقدمات درج کیے گئے تھے۔
بغیر ثبوت کے مسلم نوجوانوں کی زندگیاں برباد کی جا رہی ہیں: مولانا ارشد مدنی
اس فیصلے پر جمیعت علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سیشن کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا،اس فیصلے سے ایک بار پھر یہ سچائی ثابت ہو گئی ہے کہ بغیر کسی پختہ ثبوت کے مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے جھوٹے الزامات میں گرفتار کر کے ان کی زندگیاں اور مستقبل تباہ کیا جا رہا ہے۔
مولانا مدنی نے میڈیا کے کردار پر بھی شدید تنقید کی اور الزام لگایا کہ عدالت کا فیصلہ آنے سے پہلے ہی میڈیا یکطرفہ اور متعصبانہ رپورٹنگ کے ذریعے مسلم ملزمان کو قصوروار (دہشت گرد) قرار دے دیتا ہے، جو کہ انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم برسوں سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ بے گناہوں کو پھنسانے والی تفتیشی ایجنسیوں اور پولیس اہلکاروں کا احتساب کیا جائے اور انہیں جوابدہ بنایا جائے۔ جب تک ایسا نہیں ہوگا، دہشت گردی اور دیگر قوانین کی آڑ میں بے گناہوں کو نشانہ بنانے کا یہ سلسلہ بند نہیں ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ سیاسی حالات میں مسلمان، پولیس اور ایجنسیوں کے لیے ایک آسان ہدف بن چکے ہیں۔
جمیعت علماء ہند کے لیگل سیل کی طویل قانونی لڑائی:
مولانا عبدالرحمن کی رہائی کے لیے جمیعت علماء ہند کے مہاراشٹر لیگل سیل نے نچلی عدالت سے لے کر سپریم کورٹ تک ایک طویل اور مضبوط قانونی لڑائی لڑی۔ حال ہی میں جب یہ معاملہ سپریم کورٹ پہنچا، تو عدالتِ عظمیٰ نے مولانا عبدالرحمن کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سیشن کورٹ کو سخت ہدایت جاری کی تھی کہ اس پورے کیس کا ٹرائل دو ماہ کے اندر اندر مکمل کیا جائے۔
20 گواہ اپنے بیانوں سے مکر گئے تھے:
سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جمیعت علماء ہند کی طرف سے پیش ہونے والی سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن نے بنچ کو بتایا تھا کہ استغاثہ (Prosecution) کی طرف سے ملزم کے خلاف پیش کیے گئے 20 اہم گواہ اپنے پچھلے بیانات سے مکر چکے ہیں اور انہوں نے ملزم کے حق میں گواہی دی ہے۔ اس کے باوجود ملزم کو مسلسل جیل میں بند رکھنے پر مجبور کیا جا رہا تھا، جو کہ ناانصافی ہے۔
اگرچہ بھارت کے ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل نے اس کی مخالفت کی تھی، تاہم تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد چیف جسٹس آف انڈیا (CJI) جسٹس سوریا کانت کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے ملزم کو رہا کرنے کے بجائے ٹرائل کورٹ کو کاروائی تیز کرنے کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے اس سخت موقف کے بعد کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہوئی اور عدالت نے جرم ثابت نہ ہونے پر مولانا عبدالرحمن کو بری کرنے کا فیصلہ سنایا۔