راجستھان ہائی کورٹ کی جودھپور بنچ نے نابالغ لڑکی کے جنسی استحصال کے معاملے میں متنازع مذہبی رہنما آسا رام باپو کو کسی بھی قسم کی راحت دینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کی طرف سے سنائی گئی عمر قید (آخری سانس تک جیل) کی سزا کو برقرار رکھا ہے۔ بدھ کے روز جسٹس ارون مونگا اور جسٹس یوگیندر کمار پوروہت کی ڈویژن بنچ نے یہ تاریخی فیصلہ سنایا۔ عدالت نے واضح کیا کہ آسا رام سمیت تینوں ملزمان کی اپیلوں پر سماعت کے بعد نچلی عدالت کی سزا میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
تاہم، عدالت نے انہیں گینگ ریپ کی دفعہ سے بری کر دیا ہے، لیکن دیگر سنگین الزامات کے تحت ان کی سزا کو برقرار رکھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہائی کورٹ نے آسا رام کو فوری طور پر سرینڈر کرنے کا حکم دیا ہے۔
عبوری ضمانت پر جیل سے باہر ہیں آسا رام:
واضح رہے کہ 86 سالہ آسا رام اس وقت طبی بنیادوں پر ملی عبوری ضمانت کے تحت جیل سے باہر ہیں۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر ہائی کورٹ نے انہیں صحت کے اسباب کی بنا پر یہ راحت دی تھی، جس کی مدت میں کئی بار توسیع کی گئی تھی۔ لیکن ہائی کورٹ کے اس تازہ اور حتمی فیصلے کے بعد اب انہیں دوبارہ جیل جانا ہوگا اور سرینڈر کرنا ہوگا۔ فیصلے کے پیشِ نظر سیکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے عدالت کی عمارت اور اطراف کے علاقوں میں پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔
2013سے شروع ہوئی تھی قانونی کاروائی
یہ پورا معاملہ اگست 2013 کا ہے، جب جودھپور میں واقع آسا رام کے ہی ایک آشرم میں پڑھنے والی نابالغ طالبہ نے ان پر ریپ کا سنگین الزام لگایا تھا۔ معاملے کی طویل سماعت کے بعد، خصوصی پوکسوکورٹ نے 25 اپریل 2018 کو آسا رام کو مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
اس سزا کے خلاف آسا رام نے راجستھان ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ ہائی کورٹ میں 16 فروری سے 20 اپریل 2026تک اس کیس پر مسلسل روزانہ کی بنیادپر سماعت ہوئی، جس کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، جسے آج عام کیا گیا ہے۔
بچاؤ اور استغاثہ کے دلائل:
سماعت کے دوران بچاؤ کی طرف سے کیس کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ متاثرہ اور اس کے خاندان کے بیانات میں تضادات ہیں۔ وکیلوں نے دلیل دی کہ واقعے سے متعلق کال ریکارڈز بھی دستیاب نہیں ہیں اور اسی طرح کے شواہد کی بنیاد پر دیگر ملزمان کو بری کیا جا چکا ہے۔ جبکہ استغاثہ نے کہا کہ پوکسو کیسز میں متاثرہ کا بیان ہی کافی شواہد سمجھا جاتا ہے۔ سرکاری وکیلوں نے یہ بھی کہا کہ کیس سے جڑے گواہوں پر حملے اور قتل الزامات کی طرف سے شواہد مٹانے کی سازش کو ظاہر کرتے ہیں۔
گجرات کیس میں بھی عمر قید کاٹ رہے ہیں:
آسارام کو جنوری 2023 میں گجرات کے گاندھی نگر آشرم میں خاتون پیروکار سے ریپ کے کیس میں بھی عمر قید کی سزا مل چکی ہے۔ 86 سالہ آسارام عمر بڑھنے اور بیماریوں کا حوالہ دے کر مسلسل راحت کی مانگ کرتے رہے ہیں۔ تاہم راجستھان ہائی کورٹ نے اب واضح کر دیا ہے کہ نابالغ سے ریپ کے کیس میں ان کی سزا برقرار رہے گی اور انہیں عدالتی عمل کی پابندی کرتے ہوئے سرنڈر کرنا ہوگا۔