ملک کے سب سے بڑے میڈیکل داخلہ امتحان NEET-UG کے پیپر لیک معاملے میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی چارج شیٹ نے امتحانی نظام کی شفافیت اور سکیورٹی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ سوالیہ پرچہ کسی پرنٹنگ پریس یا نقل و حمل کے مرحلے سے لیک نہیں ہوا، بلکہ اس کی شروعات نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کے لیے کام کرنے والے بعض مضامین کے ماہرین (Subject Experts) کی سطح سے ہوئی۔
سی بی آئی کی تحقیقات کے مطابق امتحان کے سوالات تیار کرنے اور ان کی جانچ سے وابستہ چند افراد نے اپنے عہدے کا مبینہ طور پر غلط استعمال کرتے ہوئے خفیہ معلومات بیرونی افراد تک پہنچائیں۔ تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ منظم نیٹ ورک کے ذریعے امتحان سے پہلے سوالات مخصوص امیدواروں تک پہنچائے گئے، جس کے بدلے بھاری رقم وصول کیے جانے کے الزامات ہیں۔
چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ سوالیہ پرچے کی رازداری برقرار رکھنے کے لیے موجود حفاظتی نظام کے باوجود اندرونی سطح پر ہونے والی مبینہ کوتاہیوں نے پورے امتحانی عمل کو متاثر کیا۔ اس انکشاف کے بعد یہ سوال شدت سے اٹھنے لگا ہے کہ اگر سوالات تیار کرنے والے ماہرین ہی سکیورٹی کی سب سے کمزور کڑی بن جائیں تو لاکھوں طلبہ کے مستقبل کا تحفظ کیسے ممکن ہوگا۔
اس معاملے نے ملک بھر کے طلبہ اور والدین میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ ہر سال لاکھوں امیدوار برسوں کی محنت کے بعد NEET-UG امتحان میں شریک ہوتے ہیں، لیکن پیپر لیک جیسے واقعات ان کی محنت اور امتحانی نظام پر اعتماد کو متاثر کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف سخت قوانین کافی نہیں، بلکہ سوالات کی تیاری سے لے کر امتحان کے انعقاد تک ہر مرحلے پر جدید ٹیکنالوجی، سخت نگرانی اور مکمل جوابدہی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
ادھر اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس معاملے پر حکومت اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس کیس میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے امتحانی نظام میں بنیادی اصلاحات نافذ کی جائیں۔ اب سب کی نظریں عدالت اور جاری تحقیقات پر ہیں۔ طلبہ کی سب سے بڑی امید یہی ہے کہ اس معاملے کے تمام ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا ملے اور ایسا مضبوط اور شفاف نظام قائم کیا جائے جس میں کسی بھی امیدوار کی محنت پر بدعنوانی یا پیپر لیک کا سایہ نہ پڑ سکے۔