• News
  • »
  • سیاست
  • »
  • تمل ناڈو کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، وزیر اعلیٰ وجے کا سخت پیغام

تمل ناڈو کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، وزیر اعلیٰ وجے کا سخت پیغام

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 07, 2026 IST

تمل ناڈو کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، وزیر اعلیٰ وجے کا سخت پیغام
جمعہ کے روز تمل ناڈو اسمبلی کا ماحول اس وقت گرم ہو گیا جب کاویری ندی کے پانی کا پرانا تنازع ایک بار پھر ایوان میں گونج اٹھا۔ کرناٹک کے مجوزہ "میکیڈاٹو ڈیم پروجیکٹ"  پر بحث کے دوران وزیر اعلیٰ وجے اورادھیانیدھی اسٹالن کے درمیان تیکھی نوک جھونک دیکھنے کو ملی۔

ادھیانیدھی اسٹالن کے سوالات اور الزامات

ایوان میں اس اہم مسئلے کو اٹھاتے ہوئے اپوزیشن لیڈر ادھیانیدھی اسٹالن نے حکومت کی حکمت عملی پر سوال کھڑے کر دیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وجے حکومت کرناٹک کے اس منصوبے کو روکنے کے لیے سنجیدہ نہیں ہے اسٹالن کا کہنا تھا: کرناٹک حکومت میکیڈاٹو ڈیم بنانے کی تیاریوں پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔ ہمیں بھی ان کے خلاف ایک متحد اور مضبوط سیاسی موقف اپنانا ہو گا۔ تمل ناڈو کی تمام سیاسی جماعتیں آل پارٹی میٹنگ کی مانگ کر رہی ہیں، تو پھر حکومت اجلاس کیوں نہیں بلا رہی؟ انہوں نے وزیراعلیٰ کے متوقع دورۂ کرناٹک پر بھی وضاحت مانگی اور پوچھا کہ کیا سی ایم واقعی کرناٹک جا کر اس مسئلے پر بات کریں گے یا نہیں۔

وزیر اعلیٰ وجے کا کرارا جواب

اپوزیشن کے الزامات پر جوابی وار کرتے ہوئے چیف منسٹر وجے نے کہا کہ تمل ناڈو اسمبلی پہلے ہی اس ڈیم کے خلاف ایک متفقہ قرارداد پاس کر چکی ہے، اور انہوں نے خود ذاتی طور پر وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر ریاست کے سخت تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔ وجے نے واضح الفاظ میں کہا: ہر بات پر آل پارٹی میٹنگ بلانے کی ضرورت نہیں ہے۔ براہِ کرم میکیڈاٹو ڈیم جیسے اہم اور عوامی مسئلے پر سستی سیاست نہ کریں۔ ہماری حکومت کاویری کے پانی پر تمل ناڈو کے حقوق کے معاملے میں 1٪ بھی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کا سیاسی کریڈٹ لینے کی کوششیں بند کریں کیونکہ یہ مسئلہ کسی ایک پارٹی کا نہیں بلکہ پوری ریاست کے مفاد کا ہے۔

وزیر اعلیٰ وجے کا دورۂ کیوں ملتوی ہوا؟

اس سیاسی گرما گرمی کے پیچھے ایک اور وجہ وجے کا کرناٹک جانے کا ممکنہ منصوبہ بھی تھا۔ کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے وجے سے درخواست کی تھی کہ وہ فی الحال بنگلورو کا دورہ ملتوی کر دیں، کیونکہ دونوں ریاستوں میں کاویری تنازع پر حالات کشیدہ ہیں اور احتجاج ہو رہا ہے۔ انہوں نے وجے کو آئندہ حالات بہتر ہونے پر دورے کے لیے کہا ۔

آخر یہ "میکیڈاٹو ڈیم تنازع" ہے کیا؟

 کرناٹک حکومت کاویری ندی پر رام نگر ضلع میں "میکیڈاٹو" کے مقام پر ایک بڑا آبی ذخیرہ "ڈیم" بنانا چاہتی ہے۔ کرناٹک کا کہنا ہے کہ اس پروجیکٹ سے 400 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی اور بنگلورو شہر کے لیے پینے کا پانی فراہم کیا جائے گا، جس سے تمل ناڈو کے حصے کے پانی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ 
 
تمل ناڈو کا اعتراض: تمل ناڈو اس کی شدید مخالفت کر رہا ہے۔ ریاست کا موقف ہے کہ اگر یہ ڈیم بن گیا تو کاویری سے تمل ناڈو کو ملنے والے پانی میں بڑی کمی ائے گی، جس سے کسانوں اور عام آبادی کو شدید نقصان پہنچے گا۔ فی الحال دونوں پڑوسی ریاستیں اس ڈیم پر اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں اور یہ تنازع مزید بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔