Saturday, January 31, 2026 | 12, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • کلکتہ ہائی کورٹ کا فیصلہ ،ممتا حکومت کو 31 مارچ تک الٹی میٹم،جانیے پورا معاملہ؟

کلکتہ ہائی کورٹ کا فیصلہ ،ممتا حکومت کو 31 مارچ تک الٹی میٹم،جانیے پورا معاملہ؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Jan 30, 2026 IST

کلکتہ ہائی کورٹ کا فیصلہ ،ممتا حکومت کو 31 مارچ تک الٹی میٹم،جانیے پورا معاملہ؟
کلکتہ ہائی کورٹ نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی حکومت کو 31 مارچ تک کا الٹی میٹم دے دیا ہے۔عدالت نے بھارت-بنگلہ دیش سرحد پر باڑ لگانے کے لیے پہلے سے حاصل کی گئی زمین حوالے کرنے کے لیے 31 مارچ کی آخری تاریخ مقرر کر دی ہے۔  چیف جسٹس سجوی پال اور جسٹس پارتھ سارتھی سین کی بنچ نے یہ حکم جاری کیا۔ ریاستی حکومت پر باڑ لگانے کے لیے زمین دینے میں ناکامی کا الزام لگایا گیا تھا، جس پر عدالت نے سماعت کی۔
 
نو اضلاع میں بغیر تاخیر کے زمین منتقل کی جائے:
 
ڈویژن بنچ نے کہا کہ نو اضلاع میں پہلے سے حاصل کی گئی زمین کسی بھی تاخیر کے بغیر بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کو منتقل کی جانی چاہیے تاکہ بھارت-بنگلہ دیش سرحد پر کنٹیلے تاروں کی باڑ لگائی جا سکے۔ بنچ نے واضح طور پر یہ بھی کہا کہ انتظامی یا الیکشن سے متعلق امور کی وجہ سے قومی سلامتی سے جڑے کاموں میں تاخیر برداشت نہیں کی جا سکتی۔ عدالت نے کہا کہ ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر)، انتخابات کی تیاری اور دیگر وجوہات کو حکم کی تعمیل نہ کرنے کا بہانہ نہیں مانا جائے گا۔
 
ریٹائرڈ فوجی افسر نے دائر کی تھی درخواست:
 
رپورٹس کے مطابق عدالت میں یہ درخواست سبھرت ساہا نے دائر کی تھی، جو ایک ریٹائرڈ فوجی افسر ہیں۔ انہوں نے ممتا حکومت پر باڑ لگانے کے لیے زمین کا قبضہ دینے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا تھا۔ ان کے مطابق اس تاخیر کی وجہ سے سمگلنگ اور سرحد پار گھس پیٹھ میں اضافہ ہوا ہے۔  
ادھر، اس معاملے میں مرکزی حکومت کی طرف سے بھی ایک وکیل عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ریاستی حکومت آئینی طور پر زمین بی ایس ایف کو سونپنے کی پابند ہے۔ اس کے لیے معاوضہ بھی ادا کیا جا چکا ہے۔
 
وزارت داخلہ نے بار بار بھیجے تھے ریمائنڈر:
 
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مرکزی وزارت داخلہ نے بار بار ریمائنڈر بھیجے، لیکن بنگال حکومت نے باڑ لگانے کے لیے ضروری 235 کلومیٹر میں سے صرف چند ہی پلاٹ ہی سونپے ہیں۔  
زمین سونپنے میں ہو رہی تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بنچ نے مرکز اور بنگال حکومت دونوں سے ایفیڈیوٹ داخل کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ کیا سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر زمین کا ایمرجنسی حصول کیا جا سکتا ہے۔ اس معاملے پر اگلی سماعت 2 اپریل کو ہوگی۔