Tuesday, January 20, 2026 | 01, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • ہپ جوائنٹ پین کی وجوہات، علامات اور علاج

ہپ جوائنٹ پین کی وجوہات، علامات اور علاج

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Jan 20, 2026 IST

ہپ جوائنٹ پین کی وجوہات، علامات اور علاج
منصف ٹی وی کی جانب سے نشر کیے جانے والے خصوصی پروگرام ’’ہیلتھ اور ہم‘‘ میں ناظرین کو  صحتی مسائل سے متعلق اہم معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ آج کے اس خاص پروگرام میں 'ہپ جوائنٹ پین '(کولہے کے جوڑوں کا درد) کے موضوع پر سہاجا آیورویدک ہسپتال کے ماہر ڈاکٹر ٹی ایل سری نواس راؤ نے تفصیلی روشنی ڈالی۔
 
جس میں ان باتوں پر گہرائی سے بات کی گئی کہ ہپ جوائنٹ پین اب صرف بزرگوں کی بیماری نہیں رہی، بلکہ غلط طرز زندگی، لمبے وقت تک بیٹھے رہنے، اور جسمانی دباؤ کی وجہ سے نوجوان بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں۔
 

 پروگرام کے دوران درج ذیل اہم سوالات پر بات کی گئی:

 
کیا ہپ جوائنٹ پین صرف عمر بڑھنے کی وجہ سے ہوتا ہے یا نوجوانوں میں بھی عام ہے؟ ہپ جوائنٹ پین اور کمر درد میں فرق کیسے پہچانا جا سکتا ہے؟ صبح اٹھتے وقت ہپ جوائنٹ میں زیادہ درد یا اکڑن کیوں ہوتی ہے؟ لمبے وقت بیٹھنا اور غلط پوسچر اس درد کو کیسے بڑھاتا ہے؟ آرتھرائٹس، چوٹ، یا مسلز سٹرین جیسے عام اسباب کو کیسے شناخت کیا جائے؟ کب اس درد کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے؟
 
کیا وٹامن ڈی اور کیلشیم کی کمی اس درد کا سبب بن سکتی ہے؟ فزیوتھراپی کا اس درد میں کیا کردار ہے؟ کون سی روزمرہ کی سرگرمیاں یا حرکتیں درد کو مزید بڑھا دیتی ہیں؟ مریضوں کے لیے کون سے محفوظ اور مفید ایکسرسائز ہیں؟ کیا وزن میں اضافہ ہپ جوائنٹ پر دباؤ ڈال کر درد بڑھاتا ہے؟ سرجری کب تجویز کی جاتی ہے؟ درد سے بچاؤ کے لیے طرز زندگی میں کیا تبدیلیاں لازمی ہیں؟  
 

تفصیلی جانکاری کے لیے ویڈیو دیکھیں:

 

 آیورویدک نقطہ نظر سے علاج:
 
ڈاکٹر ٹی ایل سری نواس راؤ نے بتایا کہ آیورویدا کے مطابق ہپ جوائنٹ پین صرف درد کو دبانے کا معاملہ نہیں، بلکہ جسم کو مکمل طور پر درست کرنے کا عمل ہے۔ وات دوشا (Vata dosha) کے عدم توازن کو درست کرنا بنیادی ہے۔ پروگرام میں زور دیا گیا کہ:
 
 روزانہ تیل کی مالش (Snehana)
  
 مناسب ورزش اور یوگا  
 
 آیورویدک غذا 
 
طرز زندگی میں تبدیلیاں  
 
ان سب سے جوڑوں کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے اور درد کو قدرتی طور پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جسم کے سگنلز کو سمجھا جائے اور درد کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ جڑ سے علاج کرنے سے ہی دیرپا ریلیف ملتا ہے۔