Tuesday, January 20, 2026 | 01, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • بھارت انسانیت کی مثال: افغانستان کو روانہ کی7,586 کلو گرام انسداد کینسر ادویات

بھارت انسانیت کی مثال: افغانستان کو روانہ کی7,586 کلو گرام انسداد کینسر ادویات

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jan 20, 2026 IST

بھارت انسانیت کی مثال: افغانستان کو روانہ کی7,586 کلو گرام انسداد کینسر ادویات
بھارت نے ایک بار پھر دنیا کے سامنے اپنی ہمدردی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ افغانستان کی وزارت صحت عامہ کو 7,586 کلو گرام کی 18 قسم کی جان بچانے والی انسداد کینسر  ادویات کا عطیہ دیا۔ بھارت نے سرحدوں کے پار انسانیت کی خدمت کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ یہ عمدہ اشارہ بھارت  کی اقدار- ہمدردی، یکجہتی اور انسانی ذمہ داری کی زندہ علامت ہے۔ سیاست سے اوپر اٹھ کر، بھارت نے افغان کینسر کے مریضوں کے لیے امید کی کرن پیش کی جو اپنے مشکل ترین وقت کا سامنا کر رہے ہیں۔  بھارت  کے اس اقدام کی دنیا بھر میں ستائش ہو رہی ہے، یہ ثابت کر رہا ہے کہ حقیقی طاقت دل میں ہوتی ہے!

 بھارت نے جذبہ خیرسگالی 

 بھارت نے کینسر کے مریضوں کی مدد کے لیے افغانستان کو انسانی امداد فراہم کی ہے جس میں 18 قسم کی انسداد کینسر ادویات شامل ہیں۔ اس امداد میں ادویات کے 776 کارٹن شامل ہیں جن کا مجموعی وزن 7,586 کلوگرام ہے۔ طالبان حکومت کی وزارت صحت عامہ کا کہنا ہے کہ تکنیکی اور کنٹرول کے طریقہ کار کو مکمل کرنے کے بعد یہ ادویات متعلقہ مراکز صحت میں تقسیم کی جائیں گی۔ بھارت نے جذبہ خیر سگالی کے طور پر یہ ادویات افغانستان بھیجی ہیں۔ اسے پاکستان کے لیے ایک بڑے دھچکے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے جو کہ اب تک افغانستان کو ادویات کا سب سے بڑا برآمد کنندہ تھا۔

بھارت افغانستان کا پہلا انتخاب بن گیا

پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے درمیان، بھارت افغانستان کے لیے ادویات اور طبی سامان کی فراہمی کا ایک بڑا ذریعہ بن گیا ہے۔ افغانستان اس وقت اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھارت سے ادویات درآمد کرتا ہے۔ تاہم، بھارت پہلے ہی انسانی امداد کے حصے کے طور پر افغانستان کو جان بچانے والی ادویات، ویکسین اور طبی آلات بھیج رہا ہے۔ اس سے افغان مارکیٹ میں بھارت کا غلبہ بڑھ رہا ہے۔ ہندوستان نے حال ہی میں کینسر کی ادویات، اینٹی وائرل، ویکسین اور سی ٹی سکینرز کی بڑی کھیپ بھیجی ہے۔

پاکستان افغانستان تجارت روک دی گئی

افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی تجارت تقریباً بند ہے۔ امارت اسلامیہ افغانستان کی حکومت پہلے ہی پاکستان سے ادویات کی درآمد پر پابندی لگا چکی ہے۔ افغانستان کا الزام ہے کہ پاکستان سے آنے والی ادویات ناقص معیار کی ہیں جس کا براہ راست اثر افغان عوام پر پڑ رہا ہے۔ اس کی وجہ سے افغانستان نے متبادل کے طور پر پاکستان پر ہندوستان کا انتخاب کیا ہے۔ طالبان حکومت کے کئی اعلیٰ عہدیداروں نے حال ہی میں  بھارت  کا دورہ کیا ہے۔

افغان بھارت سے بھاری مقدار میں ادویات خرید ار

چند روز قبل، افغانستان فارماسیوٹیکل سروسز یونین کے اراکین نے اطلاع دی تھی کہ ملک میں 400 سے زائد کمپنیاں ادویات کی درآمدات میں مصروف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام کمپنیاں صحت کے معیار پر پورا اترنے والی اعلیٰ کوالٹی کی دوائیں حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کمپنیوں کے لیے بھارت سرفہرست انتخاب ہے۔ بھارت  اس وقت دنیا کے سب سے بڑے فارماسیوٹیکل برآمد کنندگان میں شامل ہے۔ کئی افغان فارماسیوٹیکل کمپنیوں نے بھارت میں بھی دفاتر کھولے ہیں۔