نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند نے یونین بجٹ 2026–27 کے لیے وزارت خزانہ کو تفصیلی تجاویز پیش کی ہیں۔ ان سفارشات میں روزگار میں تیزی لانے، دولت کی منصفانہ تقسیم اور بنیادی ضرورت کے مطابق ترقی کو مستحکم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
منصفانہ دولت کی تقسیم
جماعت کی جانب سے پیش کی گئی یادداشت میں ملک کی حالیہ معاشی کارکردگی کو وسیع تر تناظرمیں دیکھا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ ملک کی جی ڈی پی میں نمو، مالیاتی منڈیوں میں اضافہ اور کارپوریٹ سیکٹر میں منافع درج کیا گیا ہے تاہم یہ سارے فوائد منصفانہ دولت کی تقسیم یا مناسب روزگار کے مواقع میں تبدیل نہیں ہو سکے ہیں۔ آمدنی اور دولت کا ارتکاز ، شرح نمو میں گراوٹ اور نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مالیاتی پالیسی میں بنیادی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ اسی کے ساتھ خوراک، صحت، رہائش اور تعلیم جیسی بنیادی ضرورتوں پر بڑھتےاخراجات عام لوگوں کی گھریلو مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں ۔
روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو
اسی تناظرمیں جماعت اسلامی ہند نے مالیاتی پالیسی میں روزگار کے مواقع کو واضح طور پر شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ بڑے عوامی اخراجات اور حکومت کی طرف سے دی جانے والی مراعات کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ادارہ جاتی طریقۂ کار کو شفاف بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ تجویز میں شہری علاقوں میں موسم کے مطابق بنیادی ڈھانچے، عوامی خدمات اور روزگار پیدا کرنے کے اقدامات کی سفارش کی گئی ہے۔ تجویز میں کہا گیا ہے کہ دیہی علاقوں کےغیر زرعی شعبوں میں روزگار کے فروغ کے لیے ضلع سطح پر ایسے عملی منصوبے بنائے جائیں جو مقامی معاشی مواقعوں اور مقامی آبادی کی صلاحیتوں سے جڑے ہوں اور جس کی انفراسٹرکچر، سرکاری خریداری ، مقامی بھرتی اور رعایتی مالیات کے ذریعے مدد کی جا سکے ۔
عوامی قرضوں کی ازسرنو منصوبہ بندی
سفارشات میں مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (MSMEs) کے فروغ کےلیے عوامی قرضوں کی ازسرنو منصوبہ بندی کی بھی بات کی گئی ہے تاکہ روزگار کے بہتر مواقع پیدا کئے جا سکیں۔ خاص طور پر خواتین اور غیر تربیت یافتہ افراد کے لیے روزگار شروع کرنے کے لیے آسان قرضوں کی فراہمی اور عوامی مالیات کے منافع میں اضافہ پر زور دیا گیا ہے۔ اسی طرح صنعتی مراعاتی اسکیموں کو محنت کش شعبوں کی طرف موڑنے کی سفارش کی گئی ہے، جہاں سرمایہ کی شدت کے بجائے روزگار کے بہتر مواقع کو فروغ دیا جا سکے۔
آمدنی کے استحکام کو یقینی بنانے پر زور
زرعی شعبوں کے حوالے سے معاشی پالیسی کو صرف زرعی پیداوار کے وسائل تک محدود رکھنے کے بجائے آمدنی کے استحکام کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے، کیونکہ آمدنی میں عدم توازن دیہی علاقوں کی معاشی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ تجاویز میں قیمت کی کمی کی تلافی کے لیے ادائیگیاں (پرائس ڈیفیشینسی پیمنٹس)، مختلف قسم کی فصلوں کی کاشتکاری، آف سیزن دیہی روزگار کے مواقع کی فراہمی اور مالی اداروں کے ذریعے دئے جانے والے قرضوں کے طریقہ کار کو بہتر بنانے کی بات کہی گئی ہے۔ اسی کے ساتھ صحت کے مسائل کی وجہ سے گھریلو اخراجات میں عدم تحفظ کو کم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے ۔ ایسے اقدامات بھی تجویز کئے گئے ہیں جو براہ راست جیب پر پڑنے والے بوجھ کو کم کر سکیں۔
مسلمانوں کی سماجی و اقتصادی پسماندگی دور کرنے کی ضرورت
جماعت اسلامی ہند کی جانب سے پیش کی گئی اس یادداشت میں تعلیم یافتہ افراد میں پائی جانے والی شدید بے روزگاری کے مسئلے کو اجاگرکیا گیا ہے۔ تعلیم یافتہ افراد کو روزگار مہیا کرانے کے منصوبے تجویز کیے گئے ہیں، جن میں معاضے کے ساتھ اپرنٹس شپ اور پیشہ وارانہ وظائف شامل ہیں۔ خاص طور سے ان اضلاع کو ترجیح دی جائے جہاں گریجویٹ بے روزگاروں کی شرح زیادہ ہے ۔اس کے علاوہ مسلمانوں کی سماجی و اقتصادی پسماندگی کو دور کرنے کی ضرورتوں پر زور دیا گیا ہے، جو تعلیمی اور روزگار کے لیے ملنے والے قرض تک رسائی سے محروم ہیں۔ پیش کی گئی تجاویز میں تعلیمی معاونت، کاروباری مالیات، مہارت و روزگار کے کلسٹرز اور سرکاری خریداری میں مسلم ملکیتی ایم ایس ایم ایز کی بہتر ی شامل ہے۔
ٹیکس ڈھانچے میں توازن برتنے کی سفارش
یادداشت میں بھارت کے ٹیکس ڈھانچے میں توازن برتنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ بالواسطہ ٹیکسوں پر حد سے زیادہ انحصار کو کم کیا جا سکے اور براہِ راست ٹیکس نظام کو مزید ترقی دی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، آسائش کی کھپت، تخمینہ پر مبنی منافع اور ڈیجیٹل ویلیو پر محصولات عائد کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ اس علاوہ ریاستی حکومتوں کی مالیاتی صلاحیت بڑھانے کے لیے معاشی پیش گوئی اور نتائج سے متعلق مالی منتقلی کے اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔
تعمیری تجاویز سالانہ عمل
جماعت اسلامی ہند اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ مرکزی بجٹ کے لیے تعمیری تجاویز پیش کرنا اس کا ایک مسلسل سالانہ عمل رہا ہے، جو جامع اور سماجی طور پر حساس معاشی پالیسی سازی کے اس کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ اس حوالے سے جماعت اسلامی ہند دیگر مسلم تنظیموں اور سول سوسائٹی کے اداروں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ بھی اپنی فکر انگیز اور تعمیری تجاویز وزارتِ خزانہ کو ارسال کریں تاکہ مختلف سماجی و معاشی مطالبات کو قومی بجٹ کے عمل میں مناسب نمائندگی حاصل ہو سکے۔
سفارشات وزارت خزانہ کو پیش
یادداشت کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ بھارت کا بنیادی معاشی چیلنج محض دولت کی پیداوار نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ملک کی اقتصادی ترقی میں روزگار کے مواقع، آمدنی کا تحفظ اور منصفانہ معاشی تقسیم کی پالیسی شامل ہو۔ یہ تجاویز مرکزی بجٹ 2026–27 کی تیاری کے لیے غور و فکر کی غرض سے ملاحظے کے لیے وزارتِ خزانہ کے سامنے پیش کی گئی ہیں۔