Monday, February 02, 2026 | 14, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • بڑی آنت کا (کولوریکٹل )کینسر: خاموش بیماری، بروقت تشخیص سےعلاج ممکن

بڑی آنت کا (کولوریکٹل )کینسر: خاموش بیماری، بروقت تشخیص سےعلاج ممکن

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jan 27, 2026 IST

بڑی آنت کا (کولوریکٹل )کینسر: خاموش بیماری، بروقت تشخیص سےعلاج ممکن
کولوریکٹل کینسر آج کے دور میں ایک تیزی سے بڑھتی ہوئی سنگین بیماری بن چکی ہے جو دنیا بھر میں کینسر کی اقسام میں تیسرے نمبر پر آتی ہے۔ بھارت میں بھی اس بیماری کے کیسز میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں تقریباً انیس لاکھ نئے مریض سامنے آتے ہیں جبکہ لاکھوں افراد اس بیماری کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اب یہ کینسر صرف پچاس یا ساٹھ سال کی عمر تک محدود نہیں رہا بلکہ چالیس سال سے کم عمر افراد بھی اس کی زد میں آ رہے ہیں۔ اس موضوع  پر  منصف ٹی وی کےخاص پروگرام ہیلتھ اور ہم میں بات کی ڈاکٹر ٹی پی ایس بھنڈاری۔ کنسلٹنٹ سرجیکل آنکولوجی، بریسٹ کینسر سرجری، روبوٹک سرجن، اپولو ہسپتال، جوبلی ہلز، حیدرآباد۔ اس بات چیت پر مکمل ویڈیو آپ یہاں بھی  دیکھ سکتے ہیں۔
 

 ابتدائی علامات کیا ہیں

کولوریکٹل کینسر بڑی آنت اور ریکٹم سے شروع ہوتا ہے اور اکثر ابتدائی مراحل میں کوئی واضح علامات ظاہر نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر مریض اس وقت ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں جب بیماری کافی حد تک بڑھ چکی ہوتی ہے۔ عام علامات میں مسلسل قبض، بار بار بیت الخلا جانے کی حاجت، پاخانے میں خون، پیٹ میں درد، غیر معمولی کمزوری، وزن میں کمی اور بھوک نہ لگنا شامل ہیں۔ ان علامات کو عام معدے کی خرابی سمجھ کر نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

 بیماری کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ یہ ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بیماری کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ غیر متوازن غذا اور بدلتا ہوا طرزِ زندگی ہے۔ فاسٹ فوڈ، زیادہ چکنائی والا کھانا، مسلسل بیٹھ کر کام کرنا، جسمانی سرگرمی کی کمی، سگریٹ نوشی اور الکحل کا استعمال کولوریکٹل کینسر کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔ اس کے علاوہ خاندانی تاریخ اور جینیاتی عوامل بھی اس بیماری میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جن افراد کے خاندان میں یہ کینسر پایا گیا ہو انہیں خاص احتیاط اور باقاعدہ اسکریننگ کی ضرورت ہوتی ہے۔

 کیسے کیا جاتا ہے ٹیسٹ 

تشخیص کے لیے جدید طب میں مؤثر طریقے موجود ہیں جن میں فیکل آکلٹ بلڈ ٹیسٹ، کولونوسکوپی اور ورچوئل کولونوسکوپی شامل ہیں۔ ان ٹیسٹس کے ذریعے بیماری کو ابتدائی مرحلے میں پکڑا جا سکتا ہے جہاں مکمل شفا کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ ماہرین پچاس سال سے زائد عمر کے افراد کو باقاعدہ اسکریننگ کا مشورہ دیتے ہیں، جبکہ ہائی رسک افراد کو اس سے پہلے ہی جانچ کروانی چاہیے۔

جدید طریقہ علاج سے بہتر نتائج

علاج کے حوالے سے بھی میڈیکل سائنس نے نمایاں ترقی کی ہے۔ آج کل کولوریکٹل کینسر کا علاج اس کے اسٹیج کے مطابق کیا جاتا ہے جس میں سرجری، کیموتھراپی، ریڈی ایشن اور ٹارگٹڈ تھراپی شامل ہیں۔ جدید لیپروسکوپک اور روبوٹک سرجری کے ذریعے کم تکلیف، تیز ریکوری اور بہتر نتائج ممکن ہو گئے ہیں۔

کولوریکٹل کینسر قابلِ علاج

ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کولوریکٹل کینسر قابلِ علاج بیماری ہے بشرطیکہ اس کی بروقت تشخیص ہو جائے۔ آگاہی، صحت مند طرزِ زندگی، متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور وقت پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا اس بیماری سے بچاؤ اور علاج دونوں میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ یاد رکھیں، صحت کو نظر انداز کرنا نہیں بلکہ اس کی حفاظت کرنا ہی ایک بہتر اور لمبی زندگی کی ضمانت ہے۔