مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے ہفتہ کی شام ایک مرتبہ پھر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو خط لکھتے ہوئے ریاست میں جاری اسپیشل انٹینسو ریویژن (SIR) مشق کے دوران اختیار کیے گئے طریقۂ کار اور انداز پر سخت اعتراضات درج کرائے ہیں۔
اپنے تازہ خط میں ممتا بنرجی نے اپنی سابقہ مراسلت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایس آئی آر مشق کے باعث عوام کو شدید مشکلات اور اذیت کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے نتیجے میں مبینہ طور پر 140 افراد کی موت واقع ہوئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ تمام اقدامات نافذ العمل قوانین اور ضوابط کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور انسانی حقوق و بنیادی انسانی اقدار کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے لکھا،“میں ایک بار پھر مجبور ہوں کہ مغربی بنگال میں جاری اسپیشل انٹینسو ریویژن کے دوران اختیار کیے گئے اس طریقۂ کار اور رویے کی طرف توجہ دلاؤں جو عوامی نمائندگی ایکٹ اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد سے بالاتر ہے۔”
ڈیٹا میں ہیرا پھیری اور ووٹروں کو محروم کرنے کا الزام
ممتا بنرجی نے اپنے خط میں سنگین الزام عائد کیا کہ کچھ مبصرین بدنیتی کے ساتھ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل کو متاثر کرنے کے لیے ڈیٹا میں ہیرا پھیری کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ ایک خفیہ راستہ ہے، جس کے ذریعے بڑی تعداد میں اہل ووٹروں کو انتخابی فہرستوں سے خارج کر کے انہیں حقِ رائے دہی سے محروم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اسے جمہوری اقدار، وفاقی نظام اور بنیادی حقوق کے خلاف قرار دیا۔
یہ خط ایسے وقت میں لکھا گیا ہے جب دو دن بعد پیر کو ممتا بنرجی کی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے ملاقات متوقع ہے۔ انہوں نے مغربی بنگال میں 8,100 مائیکرو آبزرورز کی تقرری کو ہندوستان کی انتخابی تاریخ میں ایک غیر معمولی اقدام قرار دیا۔
غیر قانونی اختیارات کا استعمال؟
وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا کہ بعض مبصرین مغربی بنگال چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر سے کام کرتے ہوئے بغیر کسی قانونی اختیار کے الیکشن کمیشن کے پورٹل پر کنٹرول حاصل کر چکے ہیں اور ڈیٹا میں ردوبدل کر رہے ہیں۔وہ بدنیتی کے ساتھ ڈیٹا میں ردوبدل کر کے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل کو متاثر کر رہے ہیں۔
ممتا بنرجی نے خاص طور پر ذکر کیا کہ 10 جنوری 2026 کو تریپورہ کیڈر کے چار آئی اے ایس افسران کو مبصر مقرر کیا گیا، جبکہ اس کے علاوہ مرکز سے پانچ اور مغربی بنگال سے بارہ مبصرین پہلے ہی تعینات ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپیشل رول آبزرورز (SROs) اور مائیکرو آبزرورز نے ڈیجیٹل نظام کے تحت سماعتوں کے ڈیٹا کی جانچ شروع کر دی ہے۔
مائیکرو آبزرورز کے کردار پر سوال
ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ آیا مائیکرو آبزرورز اور دیگر مبصرین کو قانون کے تحت منظوری دینے کا اختیار حاصل ہے یا وہ صرف نگرانی اور رہنمائی کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس عمل سے اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرز (AEROs) اور الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرز (EROs) کو بے اختیار بنا دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفتیں ایس آئی آر مشق کی شفافیت اور ساکھ کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور فوری جانچ کی متقاضی ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق، مائیکرو آبزرورز کو بغیر مناسب تربیت اور مہارت کے ایک حساس اور نیم عدالتی عمل میں شامل کیا گیا ہے، حالانکہ عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 اور الیکٹورل رجسٹریشن قواعد 1960 میں ان کے اختیارات اور کردار کی کوئی وضاحت موجود نہیں۔
وفاق اور جمہوری اقدار پر خدشات
ممتا بنرجی نے اسے انتہائی تشویشناک قرار دیا کہ ایک ہی قانون اور قواعد کے تحت چلنے والا عمل مختلف ریاستوں میں مختلف انداز سے نافذ کیا جا رہا ہے، جبکہ مغربی بنگال میں بالکل الگ طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال جمہوری اقدار، وفاقی نظام اور بنیادی حقوق کے سراسر خلاف ہے اور ایک خطرناک منصوبے کی عکاسی کرتی ہے، جسے فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔ وزیر اعلیٰ نے مطالبہ کیا کہ آئینی نظام اور جمہوری عمل پر عوام کا اعتماد بحال کیا جائے اور عوام کے وقار و انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔