Saturday, January 31, 2026 | 12, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • گالسٹونز( پتےکی پتھری) — ایک خاموش مگر سنگین بیماری

گالسٹونز( پتےکی پتھری) — ایک خاموش مگر سنگین بیماری

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jan 31, 2026 IST

 گالسٹونز( پتےکی پتھری) — ایک خاموش مگر سنگین بیماری
منصف ٹی وی کے مقبول پروگرام ہیلتھ اور ہم  میں ایک عام مگر اکثر نظرانداز کی جانے والی بیماری  (Gallstones) پتے کی پتھری پر تفصیلی اور مفید گفتگو کی گئی۔ پروگرام  میں  مہمانِ خصوصی کے طور پر کیئر ہاسپٹلس ملک پیٹ، حیدرآباد کے سینئر کنسلٹنٹ اور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ آف سرجیکل گیسٹروانٹرولوجی اینڈ روبوٹک سرجری ڈاکٹر بھوپتی راجندر پرساد شریک رہے۔

 پتے کی پتھری  یا گالسٹونز کیا ہیں؟

ڈاکٹر بھوپتی راجندر پرساد نے بتایا کہ گالسٹونز دراصل پتے (Gall Bladder) میں بننے والے کنکر ہوتے ہیں، جو زیادہ تر کولیسٹرول یا پگمنٹ کی زیادتی کے سبب بنتے ہیں۔ پہلے یہ بیماری درمیانی عمر یا موٹاپے کا شکار افراد میں زیادہ دیکھی جاتی تھی، مگر بدلتے لائف اسٹائل، فاسٹ فوڈ، چکنائی سے بھرپور غذا اور جسمانی سرگرمی کی کمی کے باعث اب نوجوانوں میں بھی عام ہو رہی ہے۔

علامات اور خطرے کی نشانیاں

گالسٹونز کی عام علامات میں رات کے وقت یا کھانے کے چند گھنٹوں بعد پیٹ کے اوپری حصے میں شدید درد، متلی، قے، بدہضمی، پیٹ میں گیس اور چکنائی والی غذا کے بعد تکلیف شامل ہیں۔ بعض مریضوں میں درد کندھے یا پیٹھ کی طرف بھی پھیل سکتا ہے۔ کئی بار لوگ اسے تیزابیت سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں، جس سے مسئلہ بگڑ سکتا ہے۔

کڈنی اسٹون اور گالسٹون میں فرق

ڈاکٹر نے وضاحت کی کہ کڈنی اسٹون اور گالسٹون بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ کڈنی اسٹون پیشاب کی نالی میں بنتے ہیں اور ان کا درد بہت شدید اور نیچے کی طرف جاتا ہے، جبکہ گالسٹون کا درد آہستہ آہستہ بڑھتا ہے اور زیادہ تر رات کے وقت ہوتا ہے۔

علاج کے جدید طریقے

اگر گالسٹون علامات پیدا کریں تو اس کا واحد مؤثر علاج سرجری ہے۔ آج کل لیپروسکوپک اور روبوٹک سرجری کے ذریعے پتا نکال دیا جاتا ہے، جس میں صرف ایک دن کا ہاسپٹل اسٹے ہوتا ہے اور مریض چند دن میں معمول کی زندگی شروع کر سکتا ہے۔ ڈاکٹر کے مطابق، پتا نکالنے کے بعد ہاضمے پر کوئی خاص منفی اثر نہیں پڑتا۔

غفلت کے نقصانات

گالسٹونز کو نظرانداز کرنے سے سنگین پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، جیسے شدید انفیکشن، پتے کا پھٹ جانا، یرقان، پینکریاٹائٹس اور طویل عرصے میں گال بلیڈر کینسر کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

احتیاط اور آگاہی

ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ صحت مند طرزِ زندگی اپنائیں، پانی زیادہ پئیں، سبز پتوں والی سبزیاں استعمال کریں، فاسٹ فوڈ، چکنائی، تمباکو نوشی اور الکحل سے پرہیز کریں اور باقاعدہ واک کو معمول بنائیں۔
 
 
 

 اس موضوع پر ڈاکٹر بھوپتی راجندر پرساد سے کی گئی مکمل بات چیت آپ اس ویڈیو  میں دیکھ سکتے ہیں۔