- آٹھ منزلہ عمارت میں دھماکہ
- عمارتیں، گاڑیاں اور دکانیں تباہ
- بحریہ کے کمانڈر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
- مقامی میڈیا نے مذمت کی
ایرانی شہر بندر عباس میں ہفتے کے روز ایک زوردار دھماکے سے عمارت لرز گئی۔ ایران میں ایک زوردار دھماکا ہوا ہے جس میں پاسداران انقلاب کے بحری کمانڈر کو نشانہ بنائے جانے کی افواہیں زیرِ گردش ہیں۔ مقامی میڈیا نے بتایا کہ دھماکہ شہر کے مولم بلیوارڈ کے علاقے میں ایک آٹھ منزلہ عمارت میں ہوا۔ دھماکے سے عمارت کے ساتھ ساتھ کئی گاڑیاں اور دکانیں بھی تباہ ہو گئیں۔ دھماکے کی وجہ کا ابھی تک تعین نہیں ہو سکا ہے۔
سوشل میڈیا پر بتایا جا رہا ہے کہ اس حملے کا مقصد ایرانی پاسداران انقلاب بحریہ کے کمانڈر کو نشانہ بنانا تھا۔ تاہم مقامی میڈیا نے اس کی تردید کی ہے۔ اس دھماکے نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے پس منظر میں ہلچل مچا دی ہے۔ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی وہ تمام رپورٹس مکمل طور پر غلط ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ دھماکے میں پاسداران انقلاب کے بحری کمانڈر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔دھماکے کی وجوہات جاننے کیلیے تحقیقات شروع کر دی گئیں تاہم اس حوالے سے فی الحال مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
بندر عباس کی بندرگاہ آبنائے ہرمز میں واقع ہے۔ یہ ایران اور عمان کے درمیان اہم آبی گزرگاہ ہے۔ دنیا کی تیل کی نقل و حمل کا پانچواں حصہ اسی راستے سے فراہم کیا جاتا ہے۔ گزشتہ سال اپریل میں بندر عباس کے قریب ایک بندرگاہ پر ہونے والے زور دار دھماکے میں سینکڑوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات تھیں۔
دھماکے کی یہ اطلاع ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے۔ دونوں ممالک میں تناؤ اُس وقت بڑھا جب امریکا کے مطابق ایرانی حکام نے احتجاجی مظاہروں کے دوران شہریوں کو قتل کیا۔واضح رہے کہ ملک گیر احتجاجی مظاہرے گزشتہ دسمبر میں معاشی مشکلات کے باعث شروع ہوئے تھے۔