مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے بجٹ میں صحت کے شعبے سے متعلق اہم اعلانات کیے ہیں۔ ملک میں 3 نئے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (AIIMS) قائم کیے جائیں گے۔ اسکے علاوہ ہر ضلع میں لڑکیوں کے لیے ہاسٹل کھولے جائیں گے۔
بتا دیں کہ اس بار بجٹ میں تعلیم، صحت، ہنر مندی اور روزگار سے جڑے کئی اہم تجاویز شامل ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ تعلیم سے روزگار اور کاروبار پر توجہ دی جائے گی۔ وکسٹ بھارت کی تعمیر میں سروس سیکٹر اہم کردار ادا کرے گا اور اس کے لیے ایک ہائی لیول کمیٹی قائم کی جائے گی جو AI سمیت ابھرتی ٹیکنالوجیز کے اثرات کا جائزہ لے گی۔ 2047 تک بھارت کو سروس سیکٹر میں 10 فیصد عالمی حصہ داری کے ساتھ گلوبل لیڈر بنانا ہے۔ یہ کمیٹی ترقی، روزگار اور برآمدات کے لیے زیادہ سے زیادہ ممکنہ شعبوں کو ترجیح دے گی۔
ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کو تربیت دی جائے گی:
وزیر خزانہ نے کہا کہ 'مہارت پر مبنی روزگار' پر توجہ دی جائے گی۔ صحت کے پیشہ ور افراد تیار کرنے والے اداروں کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔ ریڈیالوجی، اینستھیزیا جیسے شعبوں پر توجہ دی جائے گی۔ اگلے پانچ سالوں میں ایک لاکھ الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز (AHP) شامل کیے جائیں گے اور 1.5 لاکھ کیئر گیورز کو تربیت دی جائے گی۔
انہوں نے میڈیکل ٹورزم کو فروغ دینے کی حکومت کی منصوبہ بندی پر کہا کہ میڈیکل ٹورزم کو بڑھاوا دینے کے لیے پانچ ریجنل میڈیکل ہب قائم کیے جائیں گے۔ اس میں نجی شعبے کی شرکت ہو گی۔ ہیلتھ کیئر کمپلیکس بنائے جائیں گے جن میں آیوش سینٹرز، ڈائیگنوسٹک، پوسٹ کیئر اور ری ہیب کے مراکز شامل ہوں گے، جس سے صحت کے پیشہ ور افراد کے لیے روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔
بھارت میں آیوروید کے تین نئے AIIMS بنائے جائیں گے:
اس کے علاوہ بجٹ میں آیوروید پر زور دیا گیا۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ تین نئے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف آیوروید قائم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ صنعتی کوریڈور کے قریب 5 یونیورسٹیاں قائم کرنے کی بھی حکومت کی منصوبہ بندی ہے۔
شمال مشرقی بھارت میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزائن قائم کیا جائے گا۔ پانچ یونیورسٹی ٹاؤن شپ بڑے صنعتی اور لاجسٹکس کوریڈور کے قریب قائم کی جائیں گی اور ہر ضلع میں اعلیٰ تعلیم کے STEM اداروں میں ایک گرلز ہاسٹل کھولا جائے گا۔ اس کے علاوہ 20 ٹورزم اسپاٹس کے 10,000 گائیڈز کو تربیت دی جائے گی۔ اس کے علاوہ نیشنل ڈیسٹی نیشن ڈیجیٹل نالج گرڈ بھی قائم کی جائے گی۔
اورنج اکانومی پر بات :
اورنج اکانومی پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا کہ گیمنگ، کامکس جیسے شعبوں میں 2030 تک 20 لاکھ پیشہ ور افراد کی ضرورت ہو گی۔ اس کے لیے AVGC کنٹینٹ کریئٹر لیبز قائم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ مشرقی بھارت میں نئے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزائن کی بنیاد رکھی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہوٹل مینجمنٹ اور کیٹرنگ ٹیکنالوجی کے لیے موجودہ نیشنل کونسل کو اپ گریڈ کرکے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہاسپیٹلیٹی قائم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایسٹرو فیزکس اور ایسٹرو نامی کو فروغ دینے کے لیے 4 ٹیلی سکوپ انفراسٹرکچر سہولیات قائم کی جائیں گی۔