دہلی کے ترکمان گیٹ کے قریب واقع مسجد درگاہ فیضِ الٰہی سے متصل ایک شادی ہال اور تشخیصی مرکز (ڈائیگنوسٹک سینٹر) کو میونسپل کارپوریشن (MCD) نے بلڈوزر کاروائی کے ذریعے منہدم کر دیا تھا۔ اس کاروائی کے بعد پولیس اور مقامی مسلم کمیونٹی کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں، جس میں الزام ہے کہ کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ پولیس نے اس معاملے میں تقریباً 20 مسلم نوجوانوں کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا، جن میں 20 سالہ ساجد اقبال بھی شامل ہے۔
دہلی ہائی کورٹ میں جمعہ 6 فروری کو اس کیس میں ساجد اقبال کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس پرتیک جالان نے اہم تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تشدد کے دوران صرف بھیڑ کا حصہ ہونے سے پولیس کسی راہگیر کو گرفتار نہیں کر سکتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھیڑ میں شامل ہونے کی بنیاد پر پولیس کسی کو گرفتار نہیں کر سکتی۔
جسٹس جالان نے کہا کہ اگر ویڈیو میں ملزم لوگوں کو ابھارتے دکھائی دے رہا ہے تو پولیس کا موقف درست ہو سکتا ہے، لیکن اگر وہ صرف وہاں سے گزر رہا ہو تو گرفتاری کو درست نہیں مانا جا سکتا۔ عدالت نے زور دیا کہ موقع پر موجود ہر شخص کو گرفتار کرنا قانونی نہیں ہے۔ صرف موجودگی کی بنیاد پر گرفتاری نہیں کی جا سکتی، ہر فرد کے کردار کی جانچ پڑتال ضروری ہے۔
دوسری طرف پولیس نے ساجد اقبال پر الزام لگایا کہ تشدد کے دوران ساجد نے لوگوں کو اکسایا اور بیریکیڈ ہٹایا تھا۔ پولیس کے وکیل نے کہا کہ ساجد نے نہ صرف بیریکیڈ ہٹائے بلکہ لوگوں کو بھی بھڑکایا، جس کے بعد حالات خراب ہو گئے۔ دہلی پولیس نے عدالت میں ایک ویڈیو کلپ بھی پیش کی۔ اس ویڈیو کلپ پر جسٹس جالان نے ہدایت کی کہ ویڈیو کو ٹائم سٹیمپ کے ساتھ ریکارڈ میں شامل کیا جائے اور ساجد اقبال کی کردار کو واضح کرتے ہوئے ایک اسٹیٹس رپورٹ داخل کی جائے۔
واضح رہے کہ 17 جنوری کی رات کو ترکمان گیٹ کے سامنے واقع درگاہ فیض-ای-الہی مسجد سے ملحقہ ڈھانچوں پر بلڈوزر کاروائی کے دوران پتھراؤ ہوا تھا۔ دہلی پولیس کے مطابق سوشل میڈیا پر افواہ پھیلائی گئی کہ ترکمان گیٹ کے سامنے ایک مسجد توڑی جا رہی ہے، جس کے بعد وہاں 150 سے 200 لوگ جمع ہو گئے اور پولیس اور MCD اہلکاروں پر پتھراؤ کیا۔ اس واقعے میں لوکل تھانے کے SHO سمیت چھ پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
عدالت نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ ساجد اقبال کی مخصوص شمولیت کے بارے میں ٹھوس ثبوت پیش کرے، خاص طور پر ویڈیو شواہد کے ساتھ، تاکہ یہ واضح ہو کہ وہ محض بھیڑ کا حصہ تھا یا واقعی تشدد میں ملوث تھا۔