آندھرا پردیش کے سابق وزیر اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی (YSRCP) کے رہنما جوگی رمیش کی بہو جوگی میگھنا نے گورنر ایس عبدالنذیر سے ملاقات کرکے اپنے اور اپنے والدین کے لیے پولیس تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔ میگھنا نے الزام لگایا ہے کہ ان کے شوہر اور سسرال والوں نے انہیں جان سے مارنے کی کوشش کی اور مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
میگھنا نے 9 ستمبر کو راج بھون میں گورنر سے ملاقات کی اور ایک درخواست پیش کی۔ اس میں انہوں نے اپنے تحفظ کے ساتھ ساتھ اپنی شکایت پر درج مقدمے کی منصفانہ اور مقررہ مدت میں تفتیش کا مطالبہ کیا۔میگھنا نے اپنے شوہر جوگی راجیو، سسر جوگی رمیش، ساس شکنتلا اور خاندان کے دیگر افراد پر جہیز کے لیے ہراساں کرنے، جسمانی اور ذہنی تشدد کرنے اور جان سے مارنے کی کوشش کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان نے شادی پر تقریباً 5 کروڑ روپے خرچ کیے تھے اور سونے، چاندی، نقد رقم اور دیگر تحائف دیے تھے۔ میگھنا کے مطابق، اس کے باوجود سسرال والوں نے مزید 5 کروڑ روپے، ٹویوٹا فارچونر گاڑی اور ہیرے کے زیورات کا مطالبہ کیا۔
میگھنا نے اپنی جان کو لاحق خطرے کے کئی واقعات کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق، گوا کے دورے کے دوران انہیں کشتی سے دھکا دینے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے تلنگانہ کے گھٹکیسر میں ایک فارم ہاؤس اور اپریل 2026 میں سسرال میں بھی جان سے مارنے کی مبینہ کوششوں کا الزام لگایا ہے۔ ان الزامات کی پولیس تفتیش کر رہی ہے۔
ابراہیم پٹنم پولیس نے 24 جولائی کو جوگی رمیش، جوگی راجیو اور خاندان کے نو دیگر افراد کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) اور جہیز کی ممانعت کے قانون کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ مقدمے میں جہیز کے لیے ہراساں کرنے، گھریلو تشدد اور قتل کی کوشش جیسے الزامات شامل ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت سیاسی تنازع بھی بن گیا جب میگھنا نے الزام لگایا کہ سسرال والوں نے شادی سے پہلے اپنے مذہب کی تبدیلی کی بات چھپائی تھی۔ جوگی رمیش نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور مخالف جماعت ٹی ڈی پی پر خاندانی تنازع کو سیاسی مسئلہ بنانے کا الزام لگایا ہے۔
جوگی رمیش اور خاندان کے دیگر افراد نے قبل از گرفتاری ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے۔ معاملے میں قانونی کاروائی اور پولیس کی تفتیش جاری ہے۔