مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ سولہویں دن میں داخل ہو گئی ہے اور صورتحال مسلسل کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ امریکی حملوں نے بنیادی طور پر ایران کے جزیرہ خرگ پر 90 سے زائد فوجی مقامات کو نشانہ بنایا ہے، جن میں فضائی دفاعی نظام، بحری اڈے اور ہوائی اڈے شامل ہیں۔ تاہم اب تک تیل سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے سے گریز کیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کرتا ہے تو تیل کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران نے اسرائیل پر میزائل حملے کیے اور عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایک بار پھر امریکی سفارت خانے کو نشانہ بنایا۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے ساتھ جاری جنگ کے تیسرے ہفتے میں اسرائیل نے اپنی فوجی ضروریات کے لیے خزانے کھول دیے ہیں۔ حکومت نے دفاعی ضروریات اور ہتھیاروں کی خریداری کے لیے تقریباً 827 ملین ڈالر کے ہنگامی فنڈز کی منظوری دی ہے۔ یہ فیصلہ کابینہ کے وزراء نے ٹیلی فون کے ذریعے ہونے والے اجلاس میں کیا۔
ادھر ایران نے حال ہی میں عراقی فضائی حدود میں ایک امریکی KC-135 طیارے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ طیارہ مار گرایا گیا۔ تاہم پینٹاگون نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ 12 مارچ کو ایک حادثہ پیش آیا تھا جس میں 6 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ پینٹاگون کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام فوجیوں کی شناخت ہو چکی ہے اور ریسکیو آپریشن کے بعد لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب ایران کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار نے کہا ہے کہ اسرائیل صرف ایرانی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے جبکہ ایران عام شہریوں پر حملے کر رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ کے ساتھ مشترکہ آپریشن کا مقصد ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو تباہ کرنا ہے۔
اسی دوران بغداد میں امریکی سفارت خانے پر بھی میزائل حملہ کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق حملے میں سفارت خانے کے کمپلیکس کے ہیلی پیڈ کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں سفارت خانے کے اندر ریڈار سسٹم اور ہیلی پیڈ کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد علاقے میں سیاہ دھوئیں کے بادل چھا گئے۔
بغداد کے انتہائی محفوظ گرین زون میں واقع امریکی سفارت خانہ صبح کے وقت دھماکوں کی زد میں آ گیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں کمپلیکس سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ امریکی سفارت خانے کی جانب سے ہلاکتوں کے بارے میں فوری طور پر کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں، تاہم واقعے کے بعد سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔