سپریم کورٹ آج 5 جنوری کو 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش کے کیس میں سٹوڈنٹ ایکٹوسٹ عمر خالد اور شرجیل امام سمیت سات ملزمان کی ضمانت کی عرضیوں پر اپنا فیصلہ سنائے گا۔ عمر خالد، شرجیل امام، گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمٰن، شاداب احمد اور محمد سلیم خان نے ضمانت کی عرضی دائر کی ہیں۔یہ تمام ملزمان کافی عرصے سے جیل میں ہیں اور دہلی ہائی کورٹ اور نچلی عدالتوں نے ان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔ جسکے بعد معاملہ سپریم کورٹ پہنچا۔
دونوں فریقوں کی دلائل:
دونوں فریقوں کو سننے کے بعد جسٹس کمار کی قیادت والی بنچ نے پیٹیشنرز اور پراسیکیوشن کو 18 دسمبر تک اپنی دلیلوں کے حمایت میں کوئی اضافی دستاویزات جمع کرانے کی ہدایات دی تھیں۔ ضمانت کی درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے دہلی پولیس کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا تھا کہ یہ تشدد کوئی اچانک کمیونل جھڑپ نہیں تھی، بلکہ یہ 'منظم اور پہلے سے منصوبہ بند' سازش کا ایک حصہ تھا۔
تقاریر، واٹس ایپ چیٹس اور دیگر چیزوں کا حوالہ دیتے ہوئے معاشرے کو کمیونل بنیاد پر تقسیم کرنے کی واضح اور صاف کوشش کی گئی۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
یاد رہے کہ 2020 میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف ملک بھر میں احتجاج ہوئے تھے۔ ان احتجاجات کے دوران دہلی کے مصطفیٰ آباد میں فرقہ وارانہ تشدد بھڑک اٹھا، جس میں تقریباً 60 افراد ہلاک ہوئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ ان افراد پر تشدد کے سلسلے میں الزامات لگائے گئے، انہیں گرفتار کیا گیا اور بعد میں جیل بھیج دیا گیا۔ تمام ملزم فی الحال جیل میں ہیں۔