دہلی میں روزانہ 12 ہزار ٹن سے زیادہ کچرا جمع ہوتا ہے، لیکن اس کچرے کو صاف کرنے والے ہزاروں مزدور، اکثر لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ جب شہر کے لوگ اپنے دن کا آغاز بھی نہیں کرتے، اس سے پہلے ہی صفائی کارکن اور کچرا چننے والے جھاڑو، بوریاں، گاڑیاں اور دیگر اوزار لے کر سڑکوں، گلیوں، ڈمپنگ گراؤنڈز اور کوڑے کے ڈھیروں سے کچرا جمع کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔
مزدوروں کے دو زمرے
دہلی میں کچرے کے صفائی نظام کو چلانے والے مزدور، دو بڑے گروپوں میں تقسیم ہیں۔
پہلا گروپ غیر رسمی کارکنوں پر مشتمل ہے، جن میں کچرا چننے والے، کچرا چھانٹنے والے اور ری سائیکلنگ کرنے والے شامل ہیں۔ یہ لوگ سڑکوں، بازاروں، کوڑے دان اور لینڈ فل سائٹس سے پلاسٹک، کاغذ، شیشہ اور دھات جیسا قابلِ استعمال سامان جمع کر کے سکریپ ڈیلروں کو فروخت کرتے ہیں۔ ان کے پاس نہ کوئی مستقل ملازمت ہوتی ہے اور نہ ہی سرکاری شناخت۔
دوسرا گروپ دہلی میونسپل کارپوریشن (MCD) کے صفائی کارکنوں کا ہے۔ ان میں سے بڑی تعداد کنٹریکٹ پر کام کرتی ہے اور انہیں مستقل ملازمت، صحت کی سہولیات، حفاظتی سامان اور دیگر بنیادی حقوق ابھی تک حاصل نہیں ہیں۔
ہزاروں کارکن مستقل ملازمت کے منتظر
ایم سی ڈی میں تقریباً 75 سے 80 ہزار صفائی کارکن کام کرتے ہیں، جن میں صرف 30 سے 35 ہزار مستقل ملازم ہیں جبکہ باقی سب کنٹریکٹ پر ہیں۔
یونین لیڈر کے مطابق بہت سے صفائی کارکن 10 سے 20 سال بلکہ اس سے بھی زیادہ عرصے سے کام کر رہے ہیں، لیکن آج تک انہیں مستقل ملازمت نہیں ملی۔
یونین لیڈر ،راجندر میواتی کا کہنا ہے کہ کئی ملازمین ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن انہیں اپنی محنت کا پورا حق اور دیگر سہولیات نہیں مل سکیں۔
کارکنوں کے اہم مطالبات
صفائی کارکن مستقل ملازمت، بقایا تنخواہوں کی ادائیگی، انشورنس، کیش لیس علاج اور دیگر سرکاری سہولیات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت نے ان کے مطالبات پورے کرنے کا وعدہ کیا تھا، جس کے بعد چند ملازمین کو مستقل کیا گیا، لیکن اب بھی ہزاروں کارکن اس انتظار میں ہیں۔
کم تنخواہ اورغیریقینی آمدنی
غیر رسمی کچرا چننے والوں کی آمدنی اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ وہ روزانہ کتنا قابلِ فروخت سامان جمع کرتے ہیں۔ اس وجہ سے ان کی کمائی نہ صرف کم بلکہ غیر یقینی بھی ہوتی ہے۔دوسری طرف کنٹریکٹ پر کام کرنے والے صفائی کارکنوں کو بھی اکثر تنخواہ دیر سے ملتی ہے، ان کی تنخواہ مستقل ملازمین سے کم ہوتی ہے اور ہر وقت ملازمت ختم ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
حفاظتی سامان کی کمی
یہ کارکن روزانہ گندے اور بیکار کچرے کے درمیان کام کرتے ہیں، لیکن زیادہ تر کے پاس دستانے، ماسک، حفاظتی جوتے یا مناسب یونیفارم بھی نہیں ہوتے۔انہیں ٹوٹے ہوئے شیشے، زہریلے کیمیکلز، اسپتال کے فضلے اور دھات کے تیز ٹکڑوں سے چوٹ لگنے کا خطرہ رہتا ہے۔ اس کے علاوہ لینڈ فل سائٹس پر زہریلا دھواں، آگ اور کچرے کے ڈھیر گرنے جیسے خطرات بھی موجود رہتے ہیں، جس سے سانس، جلد اور دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ذات اور خواتین کو درپیش مسائل
دہلی صفائی ملازمین آیوگ کے صدر سنجے گہلوت کے مطابق صفائی کا کام اب بھی زیادہ تر پسماندہ طبقات سے وابستہ لوگوں کے حصے میں آتا ہے، جس کی وجہ سے انہیں سماجی امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خواتین بھی بڑی تعداد میں اس شعبے میں کام کرتی ہیں، لیکن انہیں مردوں کے مقابلے میں کم اجرت ملتی ہے۔ اس کے ساتھ انہیں گھر کے کام بھی کرنے پڑتے ہیں اور ہراسانی، استحصال، بچوں کی دیکھ بھال، زچگی کی سہولیات اور محفوظ ماحول جیسی بنیادی سہولتوں کی بھی کمی کا سامنا رہتا ہے۔
ماہرین کی رائے
سماجی جہد کار منوج کمار کا کہنا ہے کہ اگر دہلی میں کچرے کے نظام کو بہتر بنانا ہے تو ان کارکنوں کو صرف مزدور نہیں بلکہ ماحول کی حفاظت کرنے والے اہم افراد کے طور پر تسلیم کرنا ہوگا۔اور ان کارکنوں کو مستقل شناخت، مناسب تنخواہ، وقت پر اجرت، حفاظتی سامان، صحت کی سہولت، سماجی تحفظ اور پالیسی سازی میں نمائندگی دی جائے تاکہ ان کی زندگی اور کام کے حالات بہتر ہو سکیں۔