• News
  • »
  • صحت
  • »
  • آٹوامیون بیماریوں اور آرتھرائٹس کی بروقت تشخیص ،معذوری سے بچاؤ ممکن

آٹوامیون بیماریوں اور آرتھرائٹس کی بروقت تشخیص ،معذوری سے بچاؤ ممکن

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jul 06, 2026 IST

آٹوامیون بیماریوں اور آرتھرائٹس کی بروقت تشخیص ،معذوری سے بچاؤ ممکن
منصف ٹی وی کے خصوصی صحت پروگرام "ہیلتھ اور ہم" میں آج "آٹو امیون بیماریاں اور آرتھرائٹس: بروقت تشخیص، عام غلط فہمیاں، جدید علاج اور بہتر زندگی" کے موضوع پر یشودا ہاسپٹلس، ملک پیٹ، حیدرآباد کے سینئر ریمیٹولوجسٹ ڈاکٹر نیلادری بھومک نے تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ آٹو امیون بیماریاں دنیا بھر میں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، لیکن اگر ان کی بروقت تشخیص اور مناسب علاج کیا جائے تو مریض معمول کی صحت مند اور فعال زندگی گزار سکتے ہیں۔
 
ڈاکٹرنیلادری بھومک نے بتایا کہ آٹو امیون بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم کا مدافعتی نظام غلطی سے اپنے ہی صحت مند خلیات اور اعضا پر حملہ آورہوجاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جوڑوں، پٹھوں، جلد، گردوں، پھیپھڑوں، دل اور دیگر اہم اعضا متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رمیٹیائیڈ آرتھرائٹس، لوپس (SLE)، اینکائلوزنگ اسپونڈیلائٹس، سوریائیٹک آرتھرائٹس اور ویسکولائٹس آٹو امیون بیماریوں کی عام اقسام ہیں۔
 
انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص کو جوڑوں میں مسلسل درد، سوجن، صبح کے وقت آدھے گھنٹے سے زیادہ اکڑن، غیر معمولی تھکن، بار بار بخار، جلد پر دانے یا وزن میں غیر متوقع کمی محسوس ہو تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ فوری طور پر ریمیٹولوجسٹ سے رجوع کرنا چاہیے۔ بروقت تشخیص سے نہ صرف بیماری کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے بلکہ جوڑوں کو مستقل نقصان اور معذوری سے بھی بچایا جا سکتا ہے۔
 
ڈاکٹر بھومک نے آرتھرائٹس سے متعلق کئی عام غلط فہمیوں کی بھی وضاحت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بیماری صرف معمر افراد تک محدود نہیں بلکہ نوجوانوں اور بچوں کو بھی لاحق ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ہر جوڑوں کا درد بڑھاپے یا کیلشیم کی کمی کی وجہ سے نہیں ہوتا، اس لیے خود علاج کرنے یا غیر مستند مشوروں پر عمل کرنے کے بجائے ماہر ڈاکٹر سے معائنہ کروانا ضروری ہے۔
 
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں میں ریمیٹولوجی کے شعبے میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ روایتی ادویات کے ساتھ ساتھ بائیولوجیکل ادویات اور ٹارگٹڈ تھراپی نے آٹو امیون بیماریوں کے علاج میں انقلاب برپا کیا ہے۔ ان جدید طریقۂ علاج سے سوزش پر مؤثر قابو پایا جا سکتا ہے، بیماری کی رفتار کو کم کیا جا سکتا ہے اور مریض معمول کی زندگی، تعلیم، ملازمت اور روزمرہ کی سرگرمیاں بہتر انداز میں انجام دے سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ادویات بند کرنا یا خوراک میں تبدیلی کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
 
صحت مند طرزِ زندگی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر نیلادری بھومک نے کہا کہ متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، مناسب نیند، ذہنی دباؤ پر قابو، وزن کو اعتدال میں رکھنا اور تمباکو نوشی سے اجتناب علاج کے ساتھ ساتھ بیماری پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے مریضوں کو باقاعدہ فالو اپ، ضروری خون کے ٹیسٹ اور ڈاکٹر کی ہدایات پرمکمل عمل کرنے کا بھی مشورہ دیا۔
 
پروگرام کے اختتام پر ناظرین کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے ڈاکٹر نیلادری بھومک نے مختلف آٹوامیون بیماریوں، ان کی علامات، جدید علاج اور احتیاطی تدابیر سے متعلق مفید معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آٹو امیون بیماریوں کے بارے میں عوامی شعورمیں اضافہ، بروقت تشخیص اور جدید علاج تک رسائی ہی معذوری سے بچاؤ اور بہتر معیارِ زندگی کی ضمانت ہے۔ 
 قارئین آپ ڈاکٹر نیلادری کی مکمل بات چیت  یہاں دیکھ سکتےہیں۔