اترپردیش کے بہرائچ میں ایک 50 سالہ خاتون، جو شادی کے لیے جاتے ہوئے لاپتہ ہو گئی تھی، ایک مگرمچھ کے ہاتھوں اس وقت ہلاک ہو گئی جب وہ گھاگھرا (سریو) ندی سے جڑی ایک نہر کے قریب گئی۔حکام نے بتایا کہ گاؤں والوں نے جنگلات اور پولیس اہلکاروں کی مدد سے لاش کو نکالا۔
انہوں نے بتایا کہ یہ واقعہ ہفتہ کی شام کو ضلع ہیڈکوارٹر سے تقریباً 80 کلومیٹر دور سجولی پولیس اسٹیشن کی حدود کے تحت کٹارنیا گھاٹ وائلڈ لائف ڈویژن کے نشان گڑھا فاریسٹ رینج میں پیش آیا۔ اور اتوار کو لاش برآمد کی گئی۔
گاؤں کے سربراہ عبدالعزیز نے بتایا کہ کیتکی دیوی (50)، جو مہم پور چافاریہ گاؤں کی رہنے والی ہے، ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے گھر سے نکلی لیکن واپس نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے خاندان اور گاؤں والوں نے تلاش شروع کی۔
پولیس نے بتایا کہ اتوار کی صبح گاؤں والوں نے نہر میں پل نمبر 10 سے تقریباً 500 میٹر کے فاصلے پر ایک مگرمچھ کو عورت کی لاش کے قریب دیکھا۔ ر شتہ داروں کو شبہ ہے کہ خاتون تقریب سے جاتے ہوئے رفع حاجت کے لیے نہر کے قریب گئی تھی جہاں ایک مگرمچھ نے اسے گھسیٹ کر پانی میں پھینک کر ہلاک کر دیا۔
سجولی کے ایس ایچ او پرکاش چندر شرما نے بتایا کہ جب تک انہوں نے لاش برآمد کی، ایک مگرمچھ نے خاتون کی ایک پیر کو مکمل طور پر کھا لیا تھا اور دوسرے پیر کی ران کو شدید نقصان پہنچا تھا۔شرما نے کہا، "لوگوں نے لاش کو نہر میں تیرتے ہوئے دیکھا جب کہ مگرمچھ ساتھ میں تیراکی کر رہا تھا اور اس خاتون کےجسم کو نوچھ رہاتھا۔"
انہوں نے بتایا کہ اطلاع ملنے پر پولیس، ریونیو اور محکمہ جنگلات کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے، لاش کو برآمد کیا، تفتیش کی کاروائی مکمل کی اور اسے پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔محکمہ جنگلات کے ایک اہلکار نے کہا کہ وہ اس واقعہ کی تحقیقات کر رہے ہیں اور انہوں نے متاثرہ خاندان کو قواعد کے مطابق معاوضہ فراہم کرنے کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔
یہ واقعہ اس کے دو دن بعد پیش آیا ہے جب جمعہ کی رات اسی علاقے میں چودھری چرن سنگھ بیراج کے قریب نہر سے ایک مگرمچھ نکلا، جو کچھ دیر کے لیے ایک سڑک پر پہنچا اور رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔محکمہ جنگلات نے بعد میں رینگنے والے جانور کو پکڑ کر اس کے قدرتی مسکن میں چھوڑ دیا۔
چونکہ حالیہ دنوں میں نہروں اور آبی ذخائر کے ارد گرد مگرمچھوں کی نقل و حرکت میں اضافہ ہوا ہے، محکمہ جنگلات اور آبپاشی کے اہلکاروں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے علاقوں کے قریب جانے کے دوران انتہائی احتیاط برتیں۔