Wednesday, August 12, 2026 | 26 صفر 1448
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • مسوڑھوں کی عام بیماریاں، ان کی علامات اور علاج

مسوڑھوں کی عام بیماریاں، ان کی علامات اور علاج

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Aug 11, 2026 IST

مسوڑھوں کی عام بیماریاں، ان کی علامات اور علاج
منصف ٹی وی کے خصوصی صحت پروگرام "ہیلتھ اور ہم" میں آج "Common Gum Diseases" کے موضوع پر ایک اہم اور معلوماتی نشست پیش کی گئی۔ اس پروگرام میں ڈاکٹر ثمینہ علی، کاسمیٹک ڈینٹل سرجن، حیدرآباد نے مسوڑھوں کی عام بیماریوں، ان کی وجوہات، ابتدائی علامات، علاج اور بچاؤ کے طریقوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ گفتگو کا مقصد عوام میں اس حوالے سے شعور بیدار کرنا تھا کہ دانتوں کی صحت صرف چمکدار مسکراہٹ تک محدود نہیں بلکہ مسوڑھوں کی صحت بھی مجموعی جسمانی صحت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
 
ڈاکٹر ثمینہ علی نے کہا کہ اکثر لوگ دانتوں کی صفائی پر توجہ دیتے ہیں، لیکن مسوڑھوں کی بیماریوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہی لاپروائی بعد میں سنگین مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسوڑھوں کی سب سے عام بیماری جنجیوائٹس (Gingivitis) ہے، جس میں مسوڑھوں میں سوجن، سرخی اور برش کرنے کے دوران خون آنا شروع ہو جاتا ہے۔ اگر اس مرحلے پر علاج نہ کیا جائے تو بیماری پیریوڈونٹائٹس (Periodontitis) میں تبدیل ہو سکتی ہے، جو دانتوں کو سہارا دینے والی ہڈی اور ٹشوز کو نقصان پہنچاتی ہے۔
 
انہوں نے بتایا کہ مسوڑھوں کی بیماریوں کی بنیادی وجہ دانتوں پر جمع ہونے والی پلاک (Plaque) اور ٹارٹر (Tartar) ہے۔ ناقص صفائی، تمباکو نوشی، ذیابیطس، ہارمونل تبدیلیاں، غذائی کمی اور بعض اوقات موروثی عوامل بھی ان بیماریوں کے خطرے کو بڑھا دیتے ہیں۔
 
علامات کے حوالے سے ڈاکٹر ثمینہ علی نے کہا کہ مسوڑھوں سے خون آنا، سوجن، مسلسل بدبو دار سانس، دانتوں کا ہلنا، مسوڑھوں کا سکڑنا اور کھانے کے دوران درد محسوس ہونا ایسی علامات ہیں جنہیں معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اکثر لوگ خون آنے کو عام بات سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ مسوڑھوں کی بیماری کی ابتدائی نشانی ہو سکتی ہے۔
 
علاج کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ بیماری کی شدت کے مطابق مختلف طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں اسکیلنگ اور پروفیشنل کلیننگ کے ذریعے پلاک اور ٹارٹر کو ہٹایا جاتا ہے۔ اگر بیماری زیادہ بڑھ چکی ہو تو گہرائی سے صفائی، ادویات یا بعض صورتوں میں سرجری کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ بروقت تشخیص کے ذریعے زیادہ تر مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو سکتے ہیں۔
 
ڈاکٹر ثمینہ علی نے ناظرین کو مشورہ دیا کہ دن میں کم از کم دو مرتبہ دانت صاف کریں، ڈینٹل فلاس کا استعمال کریں، تمباکو نوشی سے پرہیز کریں اور ہر چھ ماہ بعد ڈینٹل چیک اپ ضرور کروائیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت مند مسوڑھے نہ صرف دانتوں کو محفوظ رکھتے ہیں بلکہ دل کی بیماریوں، ذیابیطس اور دیگر صحت کے مسائل کے خطرات کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
 
پروگرام کے اختتام پر انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسوڑھوں کی بیماری خاموشی سے بڑھتی ہے، لیکن اس کے اثرات دیرپا ہو سکتے ہیں۔ معمولی احتیاط، باقاعدہ صفائی اور بروقت طبی مشورہ آپ کی مسکراہٹ اور مجموعی صحت دونوں کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔
 
 قارئین  ڈاکٹر ثمینہ علی، کاسمیٹک ڈینٹل سرجن، حیدرآباد کی مکمل گفتگو یہاں👇دیکھ سکتےہیں۔ اور صحت سے جڑے کسی بھی معاملے پر دیگر ویڈیوز منصف ٹی وی ہیلتھ پر بھی دیکھ سکتےہیں۔