نیپال میں تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے اور اس قدرتی آفت میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 1,365 تک پہنچ گئی ہے۔ سیلاب کے باعث ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں، جبکہ پانچ ہزار سے زائد افراد اب بھی لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں لاپتہ افراد کی تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ نیپال کے صدر رام چندر پاڈیل نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ بچاؤ، بحالی اور تعمیر نو کے کاموں میں مزید تیزی لائی جائے۔ نیپالی کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ارجن نرسنگ کے مطابق صدر رام چندر پاڈیل نے متعلقہ حکام سے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں نقل و حمل اور بحالی کے کام کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے۔
صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت کو امدادی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے کی بحالی پر بھی فوری توجہ دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کی تعمیر نو ملک کی موجودہ صلاحیت سے باہر ہے تو حکومت کو عالمی برادری سے مدد طلب کرنے میں ہچکچاہٹ نہیں کرنی چاہیے۔صدر رام چندر پاڈیل نے تلاش اور بچاؤ کے کاموں کو مزید مؤثر بنانے کی بھی ہدایت دی۔ ان کے مطابق ابھی بھی ان علاقوں میں پھنسے لوگوں کو بچانے کی امید موجود ہے، اس لیے امدادی ٹیموں کو اپنی کارروائیاں تیز کرنی چاہئیں۔
حکام کے مطابق سیلاب کے بعد کئی علاقوں میں رابطہ سڑکیں، پل اور دیگر بنیادی سہولیات متاثر ہوئی ہیں، جس کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ ایسے میں حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج متاثرہ علاقوں تک امداد پہنچانا، لاپتہ افراد کا سراغ لگانا اور تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کو دوبارہ بحال کرنا ہے۔ پانچ ہزار سے زائد افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات نے صورتحال کی سنگینی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں، جبکہ ریسکیو ٹیمیں مسلسل تلاش کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ صدر کی ہدایات کے بعد اب حکومت کی توجہ امدادی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر بحالی اور تعمیر نو کے عمل کو تیز کرنے پر ہے۔