لوئر بیک پین آج کے دور میں ایک عام مگر سنجیدہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ منصف ٹی وی کے خاص پروگرام ہیلتھ اور ہم میں ڈاکٹر ومشی کرشنا ورما، سینئراسپائن سرجن، یشودھا اسپتال سکندرآباد، نے کہا کہ دنیا کی تقریباً 70 فیصد آبادی زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر کمر کے نچلے حصے کے درد کا سامنا کرتی ہے۔ ان کے مطابق طرزِ زندگی میں تبدیلی، طویل وقت تک بیٹھنا، موبائل اور لیپ ٹاپ کا زیادہ استعمال، اور ورزش کی کمی اس مسئلے کی بڑی وجوہات ہیں۔
لوئر بیک پین محض ایک عام درد نہیں ہوتا
ڈاکٹر ورما نے وضاحت کی کہ لوئر بیک پین محض ایک عام درد نہیں بلکہ بعض اوقات جسم کا انتباہی اشارہ ہوتا ہے۔ اگر درد شدید ہو، مریض چلنے پھرنے یا جھکنے سے قاصر ہو جائے، یا درد ٹانگوں تک پھیلنے لگے (سائٹیکا)، تو اسے ’ریڈ فلیگ‘ سمجھتے ہوئے فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہر بیک پین کی وجہ ایک جیسی نہیں ہوتی، اس لیے علاج بھی مختلف ہو سکتا ہے۔
مسل اسٹرین اور سلپ ڈسک میں فرق
ماہرِ امراضِ ریڑھ کی ہڈی کے مطابق مسل اسٹرین میں عموماً کمر میں اکڑاؤ اور حرکت کے دوران درد ہوتا ہے، جبکہ سلپ ڈسک کی صورت میں ڈسک اعصاب پر دباؤ ڈالتی ہے جس سے درد ٹانگوں تک منتقل ہو سکتا ہے۔ درست تشخیص کے بغیر خود علاج یا محض فزیوتھراپی شروع کرنا بعض اوقات نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 90 فیصد کیسز میں ابتدائی ادویات سے افاقہ ہو جاتا ہے، جبکہ چند مریضوں کو انجیکشن تھراپی یا سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
نوجوانوں اور بچوں میں بڑھتا رجحان
ڈاکٹر ورما نے تشویش ظاہر کی کہ اب کم عمر بچے بھی گردن اور کمر درد کی شکایت لے کر آ رہے ہیں۔ کووِڈ کے بعد آن لائن کلاسز، موبائل اور آئی پیڈ کے بے جا استعمال، اور غلط نشست و برخاست (پوسچر) نے مسئلہ بڑھا دیا ہے۔ ان کے مطابق والدین کو چاہیے کہ بچوں کی اسکرین ٹائم محدود کریں اور درست پوسچر اپنانے کی تربیت دیں۔
جم کلچر اور بھاری وزن اٹھانا
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے اثر میں آ کر نوجوان بغیر مناسب تربیت کے بھاری وزن اٹھاتے ہیں، جس سے لمبر اسپائن پر شدید دباؤ پڑتا ہے۔ ایک بار ڈسک کو نقصان پہنچ جائے تو مکمل بحالی مشکل ہو سکتی ہے۔ ماہرین کی نگرانی میں متوازن ورزش ضروری ہے، جبکہ غیر ضروری ڈیڈ لفٹس سے پرہیز بہتر ہے۔
عمر رسیدہ افراد اور موٹاپا
60 سال سے زائد عمر کے افراد میں ریڑھ کی ہڈی کا گھساؤ عام ہے، مگر ہر مریض کو سرجری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بحالی، فزیوتھراپی اور مناسب ادویات سے بھی افاقہ ممکن ہے۔ اسی طرح موٹاپا بھی کمر درد کی بڑی وجہ بن سکتا ہے کیونکہ اضافی وزن ڈسک پر دباؤ بڑھاتا ہے۔ متوازن غذا اور روزانہ کم از کم 30 منٹ چہل قدمی کو بہترین احتیاطی تدبیر قرار دیا گیا۔
خود علاج سے گریز کریں
ڈاکٹر ورما نے خبردار کیا کہ درد کو نظر انداز کرنا یا خود سے ادویات لینا خطرناک ہو سکتا ہے۔ بروقت تشخیص اور ماہر ڈاکٹر سے مشورہ ہی پیچیدگیوں سے بچا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید دور میں اسپائن سرجری پہلے سے زیادہ محفوظ ہے اور بے بنیاد خوف کی وجہ سے علاج میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔
پروگرام کے اختتام پر ماہر نے پیغام دیا کہ صحت مند طرزِ زندگی، درست پوسچر، متوازن غذا اور باقاعدہ واک سے نہ صرف لوئر بیک پین پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ اسے بڑی حد تک روکا بھی جا سکتا ہے۔ڈاکٹر ورما کی مکمل بات چیت آپ یہاں اس ویڈیو میں بھی دیکھ سکتےہیں۔