امریکہ کی جانب سے ایران پر کسی بھی وقت حملہ کرنے کی خدشات کے پیش نظر ایران میں حالات ایک بار پھر کشیدہ ہو گئے ہیں۔ اس تناظرمیں،ہندوستانی سفارت خانے نے ایران میں موجود ہندوستانی شہریوں کے لیے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے۔ اس ایڈوائزری میں انہیں فوری طور پرملک چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔
ایران چھوڑنے ہندوستانی باشندوں کو مشورہ
ایران میں متعینہ ،ہندوستانی سفارت خانے نے اپنی ایڈوائزری میں ہندوستانیوں کو مشورہ دیا۔ایران میں بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر،5 جنوری کو حکومت ہند کی طرف سے جاری کردہ رہنما خطوط کے تسلسل میں ایک اور ایڈوائزری جاری کر رہے ہیں۔ فی الحال ایران میں ہندوستانیوں (طلباء، زائرین، تاجروں، سیاحوں) کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ فوری طور پر دستیاب سفری ذرائع بشمول تجارتی پروازوں کے ذریعے ایران چھوڑ دیں۔
مقامی میڈیا پر نظر رکھنے کا مشورہ
ہندوستانیوں کو تازہ ترین پیش رفت کے لیے مقامی میڈیا پر نظر رکھنے کا مشورہ بھی دیا۔ تمام ہندوستانیوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے سفری اور امیگریشن دستاویزات بشمول پاسپورٹ اور شناختی کارڈ ہر وقت تیار رکھیں۔ اس سلسلے میں کسی بھی مدد کے لیے انہیں ہندوستانی سفارت خانے سے رابطہ کرنا چاہیے۔ ہندوستانی سفارت خانے نے اپنی ایڈوائزری میں کہا کہ اگر آپ نے ابھی تک اپنے ناموں کا اندراج سفارت خانے میں نہیں کرایا ہے، تو آپ کو فوری طور پر رجسٹر کرنا چاہیے۔
ٹرمپ نے حملہ کی دھمکی دی ہے
ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات ابھی تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ اگر یہ مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ ایران پر حملہ کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے۔ امریکہ پہلے ہی مغربی ایشیا میں کئی طیارہ بردار بحری جہاز، آبدوزیں اور لڑاکا طیارے تعینات کر چکا ہے۔ اس تناظر میں تہران میں ایک بار پھر بدامنی چھڑ گئی ہے۔ کئی یونیورسٹیوں کے طلباء نے احتجاج کیا ہے۔ ان پیش رفت سے ایران میں حالات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ دریں اثنا، امریکہ میں قائم انسانی حقوق کے ایک گروپ نے کہا کہ ایران میں ابتدائی فسادات میں 7,105 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
نئے اتحاد کی آہٹ
یہ وارننگ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب انڈین پی ایم نریندر مودی بدھ کو اسرائیل کا اہم دورہ کرنے والے ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کی علامت ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل مشرق وسطیٰ کے اندر اور باہر ایسے نئے اتحاد بنانے کی کوشش کر رہا ہے جو اقتصادی، سفارتی اور سکیورٹی تعاون پر مبنی ہوں تاکہ ان کے بقول مشترکہ انتہا پسند دشمنوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔
دورہ نتیجہ خیز ہونے کی امید
نریندر مودی نے اپنےاسرائیلی دورے کے نتیجہ خیز بات چیت کے منتظر ہیں۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ انڈیا اسرائیل کے ساتھ اپنی مستحکم دوستی کو بہت اہمیت دیتا ہے جو اعتماد، جدت اور امن و ترقی کے مشترکہ عزم پرمبنی ہے۔ واضح رہےکہ نریندر مودی بھارت کےپہلے پی ایم ہیں جو اسرائیل کا دورہ کرچکےہیں۔