عراق کی درالحکومت بغداد میں امریکی سفارت خانے کو ہفتے کے روز ایک ڈرون نے نشانہ بنایا۔عراقی وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق ایک بوبی ٹریپ ڈرون نے صبح سویرے گرین زون میں واقع سفارت خانے پر حملہ کیا۔ اور جائے وقوع سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا۔
امریکی فضائی حملے کےجواب میں سفارت خانہ پرحملہ
وزارت کے ذرائع نے بتایا کہ یہ حملہ بغداد کے قرادہ محلے میں رہائشی علاقے پر ایک "امریکی فضائی حملے" کے بعد ہوا، جس میں عراق کی نیم فوجی پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) کے ایک سینئر رہنما اور دو ارکان ہلاک اور پڑوسی گھروں میں موجود پانچ شہری زخمی ہو گئے۔دریں اثنا، ایک سرکاری بیان میں، عراقی جوائنٹ آپریشنز کمانڈ کے سیکیورٹی میڈیا سیل (SMC) نے شہریوں کو نشانہ بنانے اور گنجان آباد رہائشی علاقوں میں حملے کرنے کے خطرناک اور بے مثال اضافے کی مذمت کی۔ ایس ایم سی نے اسے انسانی حقوق پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ اس عمل کو بین الاقوامی سطح پر ایک جرم کے طور پر درجہ بندی کیا جانا چاہیے۔
عراقی دارالحکومت زوردار دھماکے سے لرز اٹھا
بغداد میں امریکہ کے سفارت خانے کو نشانہ بنائے جانے کے بعد دھماکے نے الرصافہ کے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ایک عراقی سکیورٹی اہل کار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ آج ہفتے کے روز ایک ڈرون طیارہ سفارت خانے سے ٹکرایا، جس کے دوران وہاں سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا گیا۔ اہل کار نے مزید بتایا کہ اس حملے کے نتیجے میں سفارتی مشن کا فضائی دفاعی نظام تباہ ہو گیا ہے۔
ہیلی کاپٹر کے لینڈنگ پیڈ پر گرا میزائیل
عراقی حکام نے ذکر کیا ہے کہ ایک میزائل سفارت خانے میں ہیلی کاپٹر کے لینڈنگ پیڈ پر لگا۔سفارت خانے کا یہ وسیع و عریض کمپلیکس، جو دنیا میں امریکہ کی بڑی سفارتی تنصیبات میں سے ایک ہے، اس سے قبل بھی ایران کی اتحادی ملیشیاؤں کی جانب سے داغے گئے کئی میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔
حزب اللہ کے دو ارکان کی ہلاکت کے بعد حملہ
یہ واقعہ آج علی الصبح بغداد میں ایران نواز حزب اللہ تنظیم کے دو ارکان کی ہلاکت کے بعد پیش آیا، جن میں سے ایک "اہم شخصیت" تھی۔ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے آغاز کے بعد عراقی دارالحکومت کے اندر یہ اپنی نوعیت کی پہلی کاروائی تھی۔ ایک سکیورٹی اہل کار نے بتایا کہ وسطی بغداد میں رات گئے حزب اللہ تنظیم کے ہیڈکوارٹر کے طور پر زیرِ استعمال ایک گھر کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا"، جس کے نتیجے میں "ایک اہم شخصیت ہلاک اور دو افراد زخمی ہوئے جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا"۔عینی شاہدین نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے العرصات کے علاقے سے دھواں اٹھتے دیکھا جہاں عراقی مسلح گروہوں کے دفاتر موجود ہیں۔
الحشد الشعبی کے اڈوں پر نشانہ
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر شروع کی گئی جنگ کے بعد سے الحشد الشعبی کے اڈوں میں ایران نواز دھڑوں کے کئی دفاتر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ الحشد الشعبی ان گروہوں کا اتحاد ہے جو 2014 میں داعش سے لڑنے کے لیے قائم کیا گیا تھا، جس کے بعد وہ با ضابطہ طور پر عراقی عسکری ادارے کا حصہ بن کر مسلح افواج کے تابع ہو گیا۔الحشد الشعبی کی صفوں میں ایران نواز لڑاکا دھڑوں کے بریگیڈ بھی شامل ہیں۔ یہ دھڑے آزادانہ طور پر کام کرتے ہیں اور اس اتحاد کا حصہ بھی ہیں جسے "عراق میں اسلامی مزاحمت" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ جنگ کے آغاز سے ہی روزانہ کی بنیاد پر عراق اور خطے میں "دشمن کے اڈوں" پر ڈرون اور میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کر رہا ہے۔
خیال رہے کہ عراق برسوں سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان اثر و رسوخ کی کشمکش کا میدان رہا ہے اور 2003 میں صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹنے والے امریکی حملے کے بعد سے آنے والی یکے بعد دیگرے حکومتوں نے ان دونوں طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات میں ایک نازک توازن قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔
تاہم جنگ کے آغاز سے ہی وہاں کے حکام نے خود کو ایک ایسے تنازع کے درمیان پایا ہے جس میں ان کا نہ تو کوئی کردار ہے اور نہ ہی کوئی ٹھوس اثر و رسوخ ہے۔