کیرلم کے سابق وزیر اعلیٰ اور موجودہ لیڈر آف اپوزیشن پینارائی وجین کے خلاف انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) نے بدھ کی صبح ایک بڑی کاروائی کی۔تھرواننت پورم میں بیکری جنکشن پر واقع کرائے کے مکان پر چھاپہ مارا ۔ یہ کاروائی ان کی بیٹی وینا کی کمپنی 'ایکسالاوجک سلوشنز پرائیویٹ لمیٹڈ' اور 'کوچین منرلز اینڈ روٹائل لمیٹڈ' (CMRL) کے درمیان ہونے والے مشتبہ مالیاتی لین دین کے سلسلے میں کی گئی ہے۔ ایجنسی نے یہ اقدام ہائی کورٹ کے اس حالیہ حکم کے بعد اٹھایا ہے، جس میں عدالت نے ای ڈی کو اس کیس کی تحقیقات جاری رکھنے کی ہدایت دی تھی۔
ای ڈی (ED) کی ٹیمیں کہاں کہاں پہنچیں؟
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ای ڈی کی مختلف ٹیموں نے بیک وقت کُل 12 مقامات پر چھاپے مارے ہیں، جن میں 'سابق وزیر اعلیٰ پینارائی وجین کا 'کنور'میں واقع ذاتی گھر۔سی ایم آر ایل (CMRL) کے منیجنگ ڈائریکٹر ششیدھرن کارتھا کی رہائش گاہ۔کوٹولی میں واقع سابق وزیر محمد ریاس کا گھر۔بنگلورو میں واقع 'ایکسالاوجک' کمپنی کا مرکزی دفترشامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، جب ای ڈی کے حکام سخت سیکیورٹی کے درمیان بیکری جنکشن والے گھر میں داخل ہوئے، تو پینارائی وجین، ان کی بیٹی وینا اور خاندان کے دیگر ارکان وہیں موجود تھے۔
کیا ہے یہ پورا معاملہ؟
یہ پورا تنازعہ 8 اگست 2023 کو اس وقت سامنے آیا جب کوچی میں سی ایم آر ایل (CMRL) کمپنی سے متعلق انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کی ایک رپورٹ پبلک ہوئی۔ اس رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ CMRL نے سال 2017 سے 2020 کے درمیان وینا کی کمپنی 'ایکسالاوجک' کو 1.72 کروڑ روپے کی ادائیگی کی تھی، جبکہ ایکسالاوجک نے اس کے بدلے میں سی ایم آر ایل کو کوئی بھی آئی ٹی (IT) سروس یا خدمات فراہم نہیں کی تھیں۔
اس مالیاتی گڑبڑ کے سامنے آنے کے بعد، مرکزی حکومت نے کارپوریٹ امور کی وزارت کے ماتحت کام کرنے والی تحقیقاتی ایجنسی ایس ایف آئی او (SFIO) کو اس ہائی پروفائل کیس کی جانچ سونپی تھی۔
وزیر اعلیٰ کی بیٹی وینا پر کیا الزامات ہیں؟
سیریس فراڈ انویسٹی گیشن آفس (SFIO) نے وینا کو سی ایم آر ایل سے مبینہ طور پر غیر قانونی ادائیگیاں حاصل کرنے کے معاملے میں کلیدی ملزم بنایا ہے۔ مرکزی ایجنسی کا الزام ہے کہ،وینا اور ان کی فرم نے بغیر کوئی آئی ٹی سروسز دیے سی ایم آر ایل سے مجموعی طور پر 2.73 کروڑ روپے کا لین دین کیا۔
اگرچہ دونوں اداروں کے درمیان ایک رسمی معاہدہ دستخط کیا گیا تھا، لیکن جانچ میں پایا گیا کہ یہ ادائیگیاں سراسر دھوکہ دہی پر مبنی اور غیر قانونی تھیں۔اس کے علاوہ، سی ایم آر ایل (CMRL) کمپنی کے اندر کُل 182 کروڑ روپے کی مالی بے قاعدگیاں اور ترامیم پائی گئی ہیں۔
ایس ایف آئی او (SFIO) نے 25 افراد کو نامزد کیا:
ایس ایف آئی او نے اس معاملے کی گہرائی سے تفتیش کرنے کے بعد کوچی کی معاشی جرائم کی خصوصی عدالت میں چارج شیٹ (آروپ پتر) داخل کی تھی، جس کے بعد مرکزی حکومت نے مقدمہ چلانے کی باضابطہ منظوری دی۔
اس 160 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ میں وینا، ششیدھرن کارتھا، سی ایم آر ایل کے ڈائریکٹر انل آنندا پنیکر، چیف فنانشل آفیسر (CFO) سریش کمار، اور چیف جنرل مینیجر (CGM) پی سریش کمار سمیت 25 افراد اور کمپنیوں کو ملزم بنایا گیا ہے۔ اس فہرست میں سی ایم آر ایل، ایکسالاوجک اور کارتھا خاندان سے وابستہ دیگر ذیلی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ اس تازہ کارروائی کے بعد ریاست کی سیاست میں زبردست ہلچل مچ گئی ہے۔