• News
  • »
  • صحت
  • »
  • الرجی، سائنوسائٹس اور خراٹوں کے اسباب، بچاؤ اور جدید علاج

الرجی، سائنوسائٹس اور خراٹوں کے اسباب، بچاؤ اور جدید علاج

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jul 18, 2026 IST

الرجی، سائنوسائٹس اور خراٹوں کے اسباب، بچاؤ اور جدید علاج
منصف ٹی وی کے خصوصی صحت پروگرام "ہیلتھ اور ہم" میں آج "Allergy, Sinusitis & Snoring: How to Prevent & Treat" کے موضوع پر ایک معلوماتی  انٹر ویو پیش کیا گیا ۔ جس میں ڈاکٹر محمد نصیرالدین، کنسلٹنٹ ای این ٹی سرجن، اپولو ہاسپٹلس نے ایسے مسائل پر گفتگو کی جن سے روزانہ ہزاروں افراد متاثر ہوتے ہیں، مگر اکثر انہیں معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔

 الرجی، سائنوسائٹس اور خراٹے کا ایک دوسرے سے تعلق 

گفتگو کے آغاز میں ڈاکٹر محمد نصیرالدین نے بتایا کہ ناک کی الرجی، سائنوسائٹس اور خراٹے بظاہر الگ الگ مسائل محسوس ہوتے ہیں، لیکن کئی مواقع پر یہ ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ اگر ناک مسلسل بند رہے یا سانس لینے میں  تکلیف  پیدا ہو تو اس کا اثر نہ صرف نیند بلکہ انسان کی مجموعی صحت پر بھی پڑتا ہے۔

 الرجی کی بینادی وجوہات 

ڈاکٹر محمد نصیرالدین نے کہا کہ الرجی کی بنیادی وجوہات میں گرد و غبار، پولن، دھواں، تیز خوشبوئیں، موسم کی تبدیلی اور بعض اوقات پالتو جانوروں کے بال بھی شامل ہوتے ہیں۔ ایسے افراد کو بار بار چھینکیں آنا، ناک بہنا، آنکھوں میں خارش اور ناک بند رہنے جیسی شکایات ہوتی ہیں۔ اگر ان علامات کو طویل عرصے تک نظر انداز کیا جائے تو سائنوسائٹس پیدا ہو سکتا ہے، جس میں چہرے پر دباؤ، سر درد، ناک سے گاڑھا اخراج اور سونگھنے کی حس متاثر ہونے لگتی ہے۔

خراٹوں کوکبھی معمولی نہ سمجھیں 

ڈاکٹر نصیرالدین نے بتایا کہ خراٹے صرف آواز کا مسئلہ نہیں بلکہ بعض افراد میں یہ سلیپ اپنیا (Sleep Apnea) جیسی سنگین کیفیت کی علامت بھی ہو سکتے ہیں، جس میں نیند کے دوران سانس چند لمحوں کے لیے رک جاتی ہے۔ اس سے دل کی بیماریوں، ہائی بلڈ پریشر، تھکن، یادداشت کی کمزوری اور دن بھر غنودگی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس لیے مسلسل اور شدید خراٹوں کو کبھی معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔

 ہر مریض کے لیے ایک ہی طریقہ مؤثر نہیں ہوتا

ای این ٹی سرجن نے علاج کے حوالے سے بتایا کہ ہر مریض کے لیے ایک ہی طریقہ مؤثر نہیں ہوتا۔ الرجی میں الرجی پیدا کرنے والے عوامل سے بچاؤ، مناسب ادویات اور بعض مریضوں میں امیونوتھراپی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ سائنوسائٹس کے علاج میں ادویات، ناک کی صفائی، بھاپ لینا اور ضرورت پڑنے پر جدید اینڈوسکوپک سائنس سرجری کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح خراٹوں کے علاج کے لیے وزن کم کرنا، کروٹ  ہو  کر سونا، تمباکو نوشی سے پرہیز اور اگر ضرورت ہو تو جدید جراحی طریقوں سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔

ناک کے اسپرے یا اینٹی بایوٹکس کا بےجا استعمال نہ کریں

ڈاکٹر محمد نصیرالدین نے اس بات پر زور دیا کہ ناک یا سانس سے متعلق کسی بھی مسئلے کو خود علاج کے ذریعے حل کرنے کی کوشش نہ کریں۔ بازار میں دستیاب ناک کے اسپرے یا اینٹی بایوٹکس کا بے جا استعمال نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ درست تشخیص کے بعد ہی مناسب علاج ممکن ہے۔

 ای این ٹی سرجن کا عوام کو اہم مشورہ 

پروگرام کے اختتام پر انہوں نے ناظرین کو مشورہ دیا کہ اگر ناک بند رہنا، بار بار چھینکیں آنا، مسلسل سر درد یا روزانہ خراٹوں کی شکایت ہو تو تاخیر کے بغیر ای این ٹی ماہر سے رجوع کریں۔ بروقت تشخیص نہ صرف بیماری کو بڑھنے سے روکتی ہے بلکہ بہتر نیند، آسان سانس اور صحت مند زندگی کی راہ بھی ہموار کرتی ہے۔ یہی آگاہی اس پروگرام کا بنیادی مقصد بھی تھا کہ لوگ اپنی علامات کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کریں بلکہ بروقت طبی مشورہ حاصل کریں۔
 
قارئین آپ، ڈاکٹر محمد نصیر الدین کی یہ ویڈیو یہاں دیکھ سکتےہیں۔ اور ساتھ  ہی مختلف امراض سے متعلق ماہرین کے بے شمار  ویڈیوز منصف ٹی وی ہیلتھ  پردیکھ سکتےہیں۔