Tuesday, February 03, 2026 | 15, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • برین ٹیومر کی ابتدائی علامات،اسباب اور علاج

برین ٹیومر کی ابتدائی علامات،اسباب اور علاج

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Feb 03, 2026 IST

برین ٹیومر کی ابتدائی علامات،اسباب اور علاج
منصف ٹی وی کے مقبول پروگرام 'ہیلتھ اور ہم' میں آج سینئر نیورو سرجن ڈاکٹر نوین مہروترا نے برین ٹیومر کے موضوع پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔ کیمس سن شائن ہسپتال، بیگم پیٹ کے ماہر ڈاکٹر مہروترا نے پروگرام میں برین ٹیومر کی وجوہات، علامات اور علاج کے بارے میں اہم معلومات شیئر کیں، جو عوام کی صحت سے متعلق آگاہی کے لیے انتہائی مفید ہے۔ یہ پروگرام صحت کے مسائل پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، لوگوں کو بیماریوں سے بچاؤ اور بروقت علاج کی اہمیت سے آگاہ کرتا ہے۔
 
مکمل جانکاری کے لیے ویڈیو دیکھیں:
 

 

 برین ٹیومر کیا ہے؟
 
برین ٹیومر دماغ یا اس کے آس پاس کے خلیوں کی غیر معمولی نشوونما ہے، جو ایک ماس یا گلٹی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ کلیولینڈ کلینک کے مطابق، یہ ٹیومر دو اقسام کے ہوتے ہیں: پرائمری، جو دماغ میں ہی جنم لیتے ہیں، اور سیکنڈری یا میٹاسٹیٹک، جو جسم کے دوسرے حصوں جیسے پھیپھڑوں، چھاتی یا گردے سے پھیل کر دماغ تک پہنچتے ہیں۔ تقریباً ایک تہائی برین ٹیومر کینسر زدہ (مہلک) ہوتے ہیں، جبکہ باقی سومی (غیر کینسر زدہ)۔ مایو کلینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سومی ٹیومر آہستہ بڑھتے ہیں، لیکن اگر وہ دماغ پر دباؤ ڈالیں تو سنگین مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ برین ٹیومر کی اقسام میں گلیوما (جیسے ایسٹروسائیٹوما اور گلیوبلاسٹوما)، مینین جیوما، اور میڈولو بلاسٹوما شامل ہیں، جو بچوں میں زیادہ عام ہے۔
 
 برین ٹیومر کیسے ہوتا ہے؟ (اسباب اور خطرے کے عوامل)
 
برین ٹیومر کی بنیادی وجہ خلیوں کے ڈی این اے میں تبدیلیاں ہیں، جو خلیوں کو غیر معمولی طور پر بڑھنے اور مرنے سے روکتی ہیں۔ یہ تبدیلیاں موروثی ہو سکتی ہیں یا ماحولیاتی عوامل سے پیدا ہوتی ہیں۔ مایو کلینک کے مطابق، تابکاری کی نمائش (جیسے کینسر کے علاج سے) ایک بڑا خطرہ ہے، جبکہ سیل فون کی کم سطحی تابکاری کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں۔ موروثی سندروم جیسے نیورو فائبرومیٹوسس، ٹیوبرس سکلیروسیس، اور لائ فراؤمینی سندروم برین ٹیومر کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔ عمر، نسل (جیسے وائٹ لوگوں میں گلیوما زیادہ)، اور کینسر کی فیملی ہسٹری بھی عوامل ہیں۔ کلیولینڈ کلینک کا کہنا ہے کہ صرف 5-10 فیصد کیسز میں فیملی ہسٹری شامل ہوتی ہے۔ پروگرام میں ڈاکٹر مہروترا نے زور دیا کہ ابتدائی تشخیص سے علاج آسان ہو جاتا ہے۔
 
 علامات کیا ہیں؟
 
علامات ٹیومر کے سائز، مقام اور درجے پر منحصر ہیں۔ عام علامات میں شدید سر درد (خاص طور پر صبح کے وقت)، الٹی، دورے (سیژرز)، بینائی کے مسائل (دھندلا پن یا سائیڈ ویژن کا نقصان)، اعضاء میں کمزوری، توازن کی خرابی، تقریر کی مشکلات، تھکاوٹ، شخصیت میں تبدیلیاں، اور یادداشت کے مسائل شامل ہیں۔ مہلک ٹیومر کی علامات تیزی سے بڑھتی ہیں، جبکہ سومی کی آہستہ۔ اگر ٹیومر دماغ کے فرنٹل لوب میں ہو تو شخصیت کی تبدیلیاں، پیرائیٹل لوب میں حواس کے مسائل، اور ٹیمپورل لوب میں یادداشت کی خرابی ہو سکتی ہے۔
 
 علاج کیا ہے؟
 
علاج ٹیومر کی قسم، سائز اور مقام پر منحصر ہے۔ سرجری پہلا قدم ہے، جس میں ٹیومر کو ہٹایا جاتا ہے۔ ریڈی ایشن تھراپی (جیسے گاما نائف)، کیموتھراپی، اور ٹارگٹڈ تھراپی بھی استعمال ہوتی ہیں۔ کلیولینڈ کلینک کے مطابق، امیونوتھراپی اور بریکی تھراپی نئی ٹیکنالوجیز ہیں جو کینسر سیلز کو نشانہ بناتی ہیں۔ بچوں میں ریڈی ایشن سے احتیاط کی جاتی ہے۔ پروگرام میں ڈاکٹر مہروترا نے بتایا کہ بروقت سرجری سے 90 فیصد سومی ٹیومر ٹھیک ہو جاتے ہیں، لیکن گلیوبلاسٹوما جیسے مہلک کیسز میں بقا کی شرح کم ہے۔