جماعت اسلامی ہند کےامیرسید سعادت اللہ حسینی نے مرکزی بجٹ 2026–27 پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ حکومت نے میکرو اقتصادی استحکام، سرمایہ جاتی اخراجات اور مالیاتی نظم و ضبط پر زور دیا ہے، تاہم یہ بجٹ نئے روزگار پیدا کرنے ، سماجی ضروریات پورا کرنے، بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور عوامی قرض کے بڑھتے بوجھ جیسے اہم معاشی مسائل کو حل کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔
بجٹ سرمایہ داری کو بڑھاوا دیتا ہے
میڈیا کے لیے جاری بیان میں سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند نے بجٹ سے پہلے وزارت خزانہ کو تفصیلی تجاویز پیش کی تھیں۔ ان تجاویز میں روزگار پر مبنی ترقی،عوامی ضروریات کی تکمیل، دولت کی منصفانہ تقسیم اور اقلیتی طبقات سمیت حاشیے پر موجود لوگوں کی ترقی کے لیے مخصوص اقدامات پر زور دیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ سرمایہ داری کو بڑھاوا دیتا ہے اور بے روزگاری، آمدنی کے عدم تحفظ جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے ٹھوس منصوبہ پیش نہیں کرتا۔
بے روزگاری پر لگام لگانے میں ناکام
سید سعادت اللہ حسینی نے مزید کہا کہ بجٹ میں 12.2 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کے ریکارڈ سرمایہ جاتی اخراجات ملک کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں مددگار ہو سکتے ہیں، لیکن بے روزگاری پر لگام لگانے اور گھریلو آمدنی میں اضافہ کرنے میں ناکام ہیں۔ خاص طور پر غیر رسمی شعبے کے کارکنوں، دیہی گھرانوں، خواتین اور نوجوانوں کے لیے بجٹ میں واضح پالیسی کا ذکر نہیں کیا گیا ہے ۔ بجٹ میں صحت (1.03 لاکھ کروڑ روپے) اور تعلیم (1.39 لاکھ کروڑ روپے) جیسے سماجی شعبوں کے لیے مختص فنڈ مرکزی حکومت کے قومی اہداف سے بہت کم ہیں۔
فلاحی اسکیموں میں فنڈز کے استعمال میں کمی
سعادت اللہ حسینی نے بجٹ کے حوالے سے گزشتہ برسوں میں اہم فلاحی اسکیموں میں فنڈز کے استعمال میں آ رہی مسلسل کمی کی طرف بھی توجہ دلائی ۔ انہوں نے کہا کہ پینے کے پانی، رہائش اور روزگار سے متعلق کئی اہم منصوبوں میں اعلان کردہ بجٹ اور اصل خرچ کے درمیان نمایاں فرق ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سماجی اخراجات میں کٹوتی یا تاخیر سے جاری کیا گیا مالیاتی فنڈ آخرکار غریبوں کو نقصان پہنچاتا ہے اور انسانی ترقی سے محروم کر دیتا ہے ۔
اقلیتی بجٹ درپیش مسائل سے کم
اقلیتی فلاح و بہبود کے حوالے سے سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ اگرچہ 2026–27 میں وزارت اقلیتی امور کے لیے مختص رقم بڑھا کر تقریباً 3,400 کروڑ روپے کر دی گئی ہے، لیکن اقلیتی طبقوں کو درپیش معاشی مسائل کے مقابلے میں یہ رقم اب بھی بہت کم ہے۔ یہ نہایت تشویش ناک ہے کہ گزشتہ برسوں میں، بالخصوص اسکالرشپ اسکیموں میں، اقلیتی فلاحی فنڈز کا استعمال بہت کم رہا ہے، جس کی اصل وجہ انتظامی بد نظمی اور اسکالر شپ کی منظوری میں پائی جانے والی مشکالات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمل درآمد کے بغیر ہی محض کا اعلان کر دینا کاغذی وعدوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔
حد سے زیادہ قرض پر انحصارمالی بحران کو جنم دےسکتا ہے
جماعت اسلامی ہند نے حکومت کے بڑھتے ہوئے قرض اور سودی ادائیگیوں پر انحصار کو بھی ایک بڑے مسئلے کے طور پر اجاگر کیا ہے۔عام بجٹ کے مطابق قرض اور واجبات حکومتی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں، جبکہ سود کی ادائیگیاں کل اخراجات کا تقریباً پانچواں حصہ بنتی ہیں۔ سید سعادت اللہ حسینی نے خبردار کیا کہ حد سے زیادہ قرض پر انحصار نہ صرف مالی بحران کو جنم دیتا ہے بلکہ سنگین اخلاقی سوالات بھی کھڑے کرتا ہے۔ سودی قرض پر چلنے والا معاشی نظام فطری طور پر غیر منصفانہ ہے، کیونکہ اس میں عوامی وسائل کو سماجی بہبود کے بجائے قرض دہندگان کے مفاد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی سودی ادائیگیاں صحت، تعلیم اور غربت کے خاتمے پر ہونے والے اخراجات کو لگاتار کم کر رہی ہیں ۔
ٹیکس کے موجودہ نظام پر بھی سخت تنقید
جماعت اسلامی ہند کے امیر نے ٹیکس کے موجودہ نظام پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں کارپوریٹ ٹیکس میں نمایاں رعایتیں دی گئی ہیں ۔ جبکہ آمدنی کا بڑا حصہ اب بھی عام لوگوں پر ٹیکس لگا کر حاصل کیا جا رہا ہے۔ جی ایس ٹی جیسے ٹیکس عام لوگوں پر بوجھ ڈال رہے ہیں جس سے معاشی عدم مساوات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔
مالی ترجیحات پر نظر ثانی کرے حکومت
سید سعادت اللہ حسینی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی مالی ترجیحات پر نظر ثانی کرے اور عوامی مفاد کا حامل ایک جامع اور اخلاقی معاشی فریم ورک اپنائے۔حقیقی ترقی کا پیمانہ محض شرحِ نمو یا بنیادی ڈھانچے کے اعداد و شمار نہیں بلکہ یہ ہے کہ اس کا اثر سماج کے کمزور ترین طبقات پر کیا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند نے محنت کشوں کے شعبوں میں زیادہ سرمایہ کاری، سماجی تحفظ، آسان ٹیکس سسٹم اور قرض پر مبنی ترقی پر انحصار کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ تمام شہریوں کے لیے انصاف، وقار اور مشترکہ خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔