منصف ٹی وی کے خصوصی صحت پروگرام "ہیلتھ اور ہم" میں آج "Endoscopic Spine Surgery: Less Pain, Faster Recovery" کے موضوع پر ایک جامع اور معلوماتی نشست پیش کی گئی۔ اس پروگرام میں ڈاکٹر محمد عمران، سینئر کنسلٹنٹ نیورو اینڈ اسپائن سرجن، کیئر ہاسپٹلس، نامپلی، حیدرآباد نے ریڑھ کی ہڈی کی بیماریوں، اینڈواسکوپک اسپائن سرجری کی جدید تکنیک اور اس کے فوائد پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
گفتگو کے آغاز میں ڈاکٹر محمد عمران نے کہا کہ کمر اور گردن کا درد آج کے دور میں صرف بزرگوں کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ نوجوان بھی طویل وقت تک کمپیوٹر کے سامنے بیٹھنے، جسمانی سرگرمی کی کمی، غلط انداز میں بیٹھنے اور بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ کی وجہ سے اسپائن سے متعلق مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ہر کمر درد کا علاج سرجری نہیں ہوتا، بلکہ زیادہ تر مریض ادویات، فزیوتھراپی، ورزش اور طرزِ زندگی میں تبدیلی سے بھی صحت یاب ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جب مریض کو سلِپ ڈسک، اسپائنل اسٹینوسس یا اعصاب پر شدید دباؤ کے باعث مسلسل درد، ٹانگوں میں سن ہونا، کمزوری یا چلنے پھرنے میں دشواری کا سامنا ہو اور دیگر علاج مؤثر ثابت نہ ہوں، تو ایسے مریضوں کے لیے اینڈوسکوپک اسپائن سرجری ایک جدید اور مؤثر طریقۂ علاج ثابت ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر عمران نے کہا کہ اس جدید تکنیک میں صرف ایک نہایت چھوٹا چیرا لگایا جاتا ہے، جس کے ذریعے ایک باریک کیمرہ (اینڈوسکوپ) اور خصوصی آلات داخل کیے جاتے ہیں۔ اس کی مدد سے متاثرہ حصے تک درست انداز میں پہنچ کر علاج کیا جاتا ہے، جبکہ اردگرد کے صحت مند عضلات اور ٹشوز کو کم سے کم نقصان پہنچتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس طریقۂ علاج کے کئی نمایاں فوائد ہیں، جن میں آپریشن کے بعد کم درد، خون کا کم ضیاع، انفیکشن کا کم خطرہ، اسپتال میں مختصر قیام، جلد چلنے پھرنے کی صلاحیت اور روزمرہ زندگی میں نسبتاً تیزی سے واپسی شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں اینڈوسکوپک اسپائن سرجری کو تیزی سے اپنایا جا رہا ہے۔
گفتگو کے دوران ڈاکٹر محمد عمران نے اس غلط فہمی کو بھی دور کیا کہ اسپائن سرجری کے بعد مریض ہمیشہ کے لیے بستر تک محدود ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور تجربہ کار سرجن کی نگرانی میں کی جانے والی سرجری کے نتائج پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر ہیں، بشرطیکہ مریض کی درست تشخیص کی جائے اور مناسب مریض کا انتخاب کیا جائے۔
انہوں نے ناظرین کو مشورہ دیا کہ اگر کمر یا گردن کا درد کئی ہفتوں تک برقرار رہے، درد بازو یا ٹانگ تک پھیلنے لگے، سن ہونا یا کمزوری محسوس ہو یا پیشاب اور پاخانے پر کنٹرول متاثر ہونے جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ماہر نیورو و اسپائن سرجن سے رجوع کریں۔ بروقت تشخیص نہ صرف پیچیدگیوں سے بچاتی ہے بلکہ علاج کو بھی زیادہ کامیاب بناتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹر محمد عمران نے کہا کہ صحت مند ریڑھ کی ہڈی کے لیے باقاعدہ ورزش، درست انداز میں بیٹھنا، وزن کو قابو میں رکھنا، متوازن غذا اور جسمانی سرگرمی کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جدید اینڈوسکوپک اسپائن سرجری نے ایسے بہت سے مریضوں کے لیے نئی امید پیدا کی ہے جو برسوں سے کمر درد اور اعصابی تکالیف کا شکار تھے اور اب کم درد کے ساتھ تیزی سے صحت یاب ہو سکتے ہیں۔
قارئین آپ ڈاکٹر محمدعمران، سینئرکنسلٹنٹ نیورو اینڈ اسپن سرجن کی یہ ویڈیو یہاں دیکھ سکتےہیں۔👇
اور ساتھ ہی مختلف امراض سے متعلق ماہرین کے بے شمار ویڈیوز منصف ٹی وی ہیلتھ پردیکھ سکتے ہیں۔