• News
  • »
  • قومی
  • »
  • مانسون سیشن کےچوتھے دن بھی ہنگامہ، پارلیمنٹ میں تعطل برقرار

مانسون سیشن کےچوتھے دن بھی ہنگامہ، پارلیمنٹ میں تعطل برقرار

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jul 23, 2026 IST

مانسون سیشن کےچوتھے دن بھی ہنگامہ، پارلیمنٹ میں تعطل برقرار
پیپر لیک معاملہ اور طلباء کے احتجاج سمیت مختلف مسائل پر اپوزیشن کے احتجاج کے بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کو دن بھر کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔  مانسون سیشن کےمسلسل چوتھے دن بھی  پارلیمنٹ میں تعطل برقرار رہا۔ حکومت اور اپوزیشن اپنے موقف پر قائم رہے۔ اور ایوان کی کاروائی چوتھے دن بھی ہنگاموں کی نذر ہوگئی۔ اس طرح چوتھے دن بھی پارلیمنٹ کےدونوں ایوانوں کو ہنگاموں کے بعد اجلاس اگلے دن یعنی جمعہ کی صبح 11 بجے تک کےلئے ملتوی کر دیا گیا۔

 اپوزیشن کی مانگ؛حکومت کا موقف

  نیٹ پیپر لیک معاملے کو زیر بحث لانے اور مرکزی وزیر تعلیم دھر میندر پردھان کے استعفے کے مطالبہ  پر اپوزیشن مسلسل چوتھے دن جمعرات کو  بھی  راجیہ سبھاور اور لوک سبھا میں شدید ہنگامہ کیا۔ ہنگاموں کے باعث اجلاس کو کئی مرتبہ ملتوی کیا گیا۔ ایوان میں نظم و ضبط برقرار نہیں  رہنے پر  ایوان بالا اور ایوان زیریں  کو  دن بھر کےلئے ملتوی کر دیا گیا۔ مسلسل چوتھے دن حکومت اور اپوزیشن  کے  اس مسئلہ پر جاری تعطل کےباعث مانسون اجلاس کے ابتدائی چار دن ہنگاموں کے نذر ہو گئے۔

 سڑک سے سنسد تک احتجاج 

 اپوزیشن اس معاملے پر سنسد سے لیکر سڑک پر احتجاج کر رہی ہے۔ وہیں حکومت کا موقف ہےکہ وہ اس عماملے پر قواعد کے مطابق بحث کرنے کےلئےتیار ہے۔ حکومت کی یقین دہانی سے اپوزیشن مطمئن نہیں ہے۔ وہ پہلے وزیر تعلیم کے استعفے کی مانگ کر رہےہیں۔ا ور ساتھ ہی اس معاملے کو زیر بحث لانے پر زور دے رہےہیں۔

 لوک سبھا میں وقفہ صفراور وقفہ سوالا ت

 اس  سے پہلے  لوک سبھا  میں جیسے ہی 11 بجے کاروائی  شروع ہوئی ۔ اسپیکر اوم برلا نے وقفہ سوالات شروع کرنے کی کوشش کی، لیکن اپوزیشن اراکین نے پیپر لیک اور طلبہ کے احتجاج کا مسئلہ اٹھایا۔  اوم  برلا نے کہا کہ کسی بھی رکن کو وقفہ سوالات کے دوران کسی دوسرے معاملے پر بولنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وقفہ سوالات کو اپنے قواعد کے مطابق سختی سے کام کرنا چاہیے، کیونکہ اراکین کے لیے حکومت سے جواب طلب کرنے کا یہ سب سے اہم وقت ہے۔

 اسپیکر سےاپوزیشن پارٹیوں کےلیڈرز کی ملاقات

راہل گاندھی اور اکھلیش یادو سمیت اعلیٰ اپوزیشن لیڈروں نے بعد میں NEET پیپر لیک کے معاملے پر بحث کے مطالبے پر برلا سے ملاقات کی۔ ٹی ایم سی لیڈر سوگتا رائے اور مہوا موئترا بھی موجود تھے۔

 حکومت بحث کیلئے تیار، اپوزیشن بحث سے فرار

پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے اپوزیشن پر پیشگی شرائط عائد کرنے اور بحث سے بچنے کا الزام لگایا۔ رجیجو نے کہا، "حکومت بھی اس معاملے پر اپنا نقطہ نظر پیش کرنا چاہے گی۔"انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کے ارکان "جب تک چاہیں" بول سکتے ہیں اور یہ کہ بحث "دو دن تک" جاری رہ سکتی ہے۔رجیجو نے یہ بھی کہا کہ دونوں ایوانوں میں بحث کی تاریخ اور مدت کا فیصلہ اپوزیشن کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے اور حکومت نے کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں سے بحث کے لئے رابطہ کیا ہے۔

 ہنگامہ آرائی پر لوک سبھا کی کاروائی ملتوی 

  برلا نے کہا، حکومت نے پہلے ہی اپوزیشن اراکین کو یقین دلایا ہے کہ حکومت NEET پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ اسپیکر نے اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ ایوان کو چلانے میں تعاون کریں تاہم اپوزیشن ارکان نے اپنا احتجاج جاری رکھا جس کے باعث لوک سبھا کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کردی گئی۔ اور پھر ہنگامہ  نہیں تھنے پر  کاروائی اگلے دن تک کےلئے ملتوی کر دی گئی۔

راجیہ سبھا بھی دن بھر کےلئے ملتوی 

راجیہ سبھا کی کاروائی بھی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔ جب سہ پہر 3:00 بجے تیسرے التوا کے بعد ایوان دوبارہ شروع ہوا تو اپوزیشن جماعتوں نے NEET کے معاملے پر دوبارہ احتجاج شروع کر دیا۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ کانگریس پارٹی صرف NEET معاملے پر احتجاج کر رہی ہے لیکن بحث نہیں چاہتی۔ ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے ایوان کو چلانے کی کوشش کی لیکن ہنگامہ آرائی کی وجہ سے انہوں نے ایوان کو دن بھر کے لیے ملتوی کردیا۔

بحث سےپہلے پردھان کا استعفیٰ

ملکارجن کھرگے نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کوئی بھی بحث شروع ہونے سے پہلے پردھان کو استعفیٰ دینا چاہیے۔ کھرگے نے کہا، ’’جب تک وہ (پردھان) استعفیٰ نہیں دیتے، بحث شروع نہیں ہوگی‘‘۔کھرگے نے یہ بھی الزام لگایا کہ پولیس کے لاٹھی چارج کے بعد بہت سے طلباء کو اسپتال میں داخل کرایا گیا اور ان کے والدین سخت پریشان تھے۔

 مرکزی وزیر کی حکومت پر تنقید 

مرکزی وزیر اور قائد ایوان جگت پرکاش نڈا نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے اس کے طرز عمل کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن نہ تو بحث چاہتی ہے اور نہ ہی ایوان کو چلنے دینے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے شروع میں NEET پر بحث کا مطالبہ کیا تھا، اور حکومت نے جواب دیا کہ وہ NEET پیپر لیک سمیت تمام مسائل پر بات کرنے کے لیے تیار ہے۔ مسٹر نڈا نے کہا کہ اب کانگریس نے وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک نئی شرط رکھی ہے۔
راجیہ سبھا جمعہ تک ملتوی کر دی گئی، قانون سازی کاتعطل مسلسل چوتھے دن  بھی رہا۔