تلنگانہ ہائی کورٹ نے ایک غیر معمولی فیصلے میں سکندرآباد کے لوتھ کنٹہ علاقے میں واقع ایک متنازعہ نجی جائیداد کی حفاظت کے لیے بھارتی فوج سے مدد طلب کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اسے ریاستی حکومت اور اس کے محکموں پر اعتماد نہیں رہا، اسی لیے یہ قدم اٹھانا پڑا۔ یہ معاملہ شانتہ سری رام کنسٹرکشنز نامی کمپنی کی جانب سے دائر توہینِ عدالت کی درخواست پر سنایا گیا۔ کمپنی کا الزام تھا کہ HYDRAA کے اہلکار عدالتی احکامات کے باوجود غیر قانونی طور پر اس کی جائیداد میں داخل ہو رہے ہیں اور مداخلت کر رہے ہیں۔
سماعت کے دوران جسٹس انیل کمار جوکانتی نے کہا کہ عام طور پر ایسے معاملات میں فوج کو شامل نہیں کیا جاتا، لیکن موجودہ حالات میں عدالت کو ریاستی حکومت اور اس کے متعلقہ محکموں پر اعتماد نہیں رہا، اس لیے جائیداد کی حفاظت کے لیے فوج تعینات کرنے کی ہدایت دی جا رہی ہے۔ عدالت نے ہدایت دی کہ ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل فوری طور پر شہر کے سینئر فوجی حکام سے رابطہ کریں تاکہ متنازعہ مقام پر فوجی اہلکار تعینات کیے جا سکے ۔ عدالت نے مزید کہا کہ اگر HYDRAA، پولیس یا کسی بھی سرکاری محکمے کا کوئی اہلکار عدالتی اجازت کے بغیر اس جائیداد میں داخل ہونے کی کوشش کرے تو وہاں موجود فوجی اہلکار قانون کے مطابق مناسب کاروائی کریں۔
سماعت کے دوران ریاستی حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے دعویٰ کیا کہ HYDRAA کے اہلکار جائیداد میں داخل نہیں ہوئے۔ عدالت نے اس دلیل کو مسترد کر دیا ہے ۔
عدالت نے درخواست گزار کی جانب سے پیش کی گئی تصاویر کا بھی جائزہ لیا، جن میں مبینہ طور پر HYDRAA کی گاڑیاں متنازعہ زمین کے اندر موجود دکھائی دے رہی تھیں۔ ان شواہد کی بنیاد پر عدالت نے حکومت کے مؤقف سے اتفاق نہیں کیا اور جائیداد کی حفاظت کے لیے فوج تعینات کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔