Saturday, January 31, 2026 | 12, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • بچوں میں بڑھتا ہوا دمہ: بروقت تشخیص اور درست علاج کی اہمیت

بچوں میں بڑھتا ہوا دمہ: بروقت تشخیص اور درست علاج کی اہمیت

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jan 28, 2026 IST

بچوں میں بڑھتا ہوا دمہ: بروقت تشخیص اور درست علاج کی اہمیت
مُنصف ٹی وی کے خصوصی پروگرام “ہیلتھ اور ہم” میں بچوں میں تیزی سے بڑھتے ہوئے دمہ (Asthma) کے مسئلے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس پروگرام  میں  مہمانِ خصوصی انکورا ہاسپٹل،عطاپور حیدرآباد کی کنسلٹنٹ پیڈیاٹرک پلمونولوجسٹ ڈاکٹر شروتی کوتہ  پلّی رہیں۔

دمہ ایک دائمی سانس کی بیماری 

آج کل بہت سے بچے سانس کی بیماریوں، خاص طور پر دمہ، کا شکار ہو رہے ہیں، لیکن اکثر والدین اسے عام نزلہ، زکام یا کھانسی سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں، جو آگے چل کر سنگین مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ ڈاکٹر شروتی کے مطابق دمہ ایک دائمی سانس کی بیماری ہے جس میں سانس کی نالیاں سوجن اور حساسیت کے باعث سکڑ جاتی ہیں، جس سے بچے کو کھانسی، سیٹی جیسی آواز (ویزنگ) اور سانس پھولنے کی شکایت ہوتی ہے۔

دمہ،کئی عوامل کا مجموعہ 

انہوں نے واضح کیا کہ بچوں میں دمہ کسی ایک وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ یہ کئی عوامل کا مجموعہ ہے۔ ان میں جینیاتی رجحان، کمزور مدافعتی نظام، قبل از وقت پیدائش، ابتدائی عمر میں بار بار انفیکشن، ماحولیاتی آلودگی اور الرجی شامل ہیں۔ شہری علاقوں میں آلودگی کے باعث دمہ کے کیسز نسبتاً زیادہ دیکھے جا رہے ہیں۔

دمہ کی ابتدائی علامات 

پروگرام میں دمہ کی ابتدائی علامات پر بھی روشنی ڈالی گئی، جن میں رات کے وقت خشک کھانسی، نیند کا متاثر ہونا، بار بار سانس پھولنا، کھیل کے دوران جلد تھکن اور صبح کے وقت ناک کی الرجی شامل ہیں۔ ڈاکٹر شروتی نے بتایا کہ ایسے بچے جنہیں بار بار کھانسی یا الرجی ہو، انہیں ماہر ڈاکٹر کو ضرور دکھانا چاہیے۔

دمہ کی تشخیص کیسے کی جاتی ہے

علاج کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دمہ کا تشخیص زیادہ تر کلینیکل بنیاد پر کیا جاتا ہے، جبکہ چھ سال سے بڑے بچوں میں پلمونری فنکشن ٹیسٹ بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے اس غلط فہمی کو بھی دور کیا کہ انہیلر نقصان دہ ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق انہیلر محفوظ، مؤثر اور عالمی گائیڈ لائنز کے مطابق پہلا انتخاب ہیں، جبکہ نیبولائزر کے مقابلے میں کم دوا براہِ راست پھیپھڑوں تک پہنچاتے ہیں۔

ڈاکٹرشروتی کا والدین کو مشورہ 

ڈاکٹر شروتی نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ دمہ کو بیماری کے طور پر قبول کریں، خوف یا سماجی دباؤ کا شکار نہ ہوں، اور بچوں کو اعتماد دیں۔ انہوں نے کہا کہ کنٹرول شدہ دمہ کے ساتھ بچے کھیل کود، حتیٰ کہ اسپورٹس اور سوئمنگ بھی کر سکتے ہیں۔

صحت مند پھیپھڑے، صحت مند بچپن کی بنیاد

پروگرام کے اختتام پر یہ پیغام دیا گیا کہ “صحت مند پھیپھڑے، صحت مند بچپن کی بنیاد ہیں”۔ بروقت تشخیص، درست علاج اور والدین کی مثبت سوچ سے دمہ کے شکار بچے بھی ایک نارمل، فعال اور کامیاب زندگی گزار سکتے ہیں۔
 اس پروگرام کی تفصیلی ویڈیو یہاں دیکھئے۔