مین اسٹریم میڈیا کے صحافی امان چوپڑا کے خلاف جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں ایف آئی آر درج کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد جھارکھنڈ پولیس انہیں پوچھ تاچھ کے لیے اپنے ساتھ لے گئی، تاہم چند گھنٹوں کی پوچھ تاچھ کے بعد انہیں چھوڑ دیا گیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ مقدمہ چیف میڈیکل آفیسر کی شکایت پر درج کیا گیا۔ شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ امان چوپڑا نے صدر ہسپتال کے آئی سی یو میں داخل ہوتے ہوئے وہاں نافذ حفاظتی پروٹوکول کی خلاف ورزی کی۔
ہسپتال حکام کا الزام ہے کہ صحافی ’مائک‘ کے ساتھ براہِ راست آئی سی یو میں داخل ہوئے۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق انتہائی نگہداشت والے یونٹ میں موجود مریضوں کی حالت کو دیکھتے ہوئے وہاں داخلے اور میڈیا کوریج کے لیے مخصوص حفاظتی اصول نافذ ہوتے ہیں۔ حکام نے دعویٰ کیا کہ مبینہ طور پر ان ضابطوں کی خلاف ورزی سے ایک شدید بیمار مریض کی صحت اور زندگی کو فوری خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔ اسی معاملے کو بنیاد بناتے ہوئے چیف میڈیکل آفیسر کی جانب سے پولیس میں شکایت درج کرائی گئی، جس کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔
پولیس نے معاملے کی تحقیقات کے سلسلے میں امان چوپڑا سے پوچھ تاچھ کی اور واقعے سے متعلق معلومات حاصل کیں۔ تاہم چند گھنٹوں کے بعد انہیں چھوڑ دیا گیا۔ فی الحال معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے اور پولیس شکایت میں لگائے گئے الزامات اور ہسپتال میں پیش آنے والے واقعے کے مختلف پہلوؤں کی جانچ کر رہی ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر ہسپتالوں کے حساس شعبوں، خاص طور پر آئی سی یو میں میڈیا کوریج کے دوران مریضوں کی رازداری، صحت اور حفاظتی پروٹوکول پر عمل درآمد کے سوال کو سامنے لاتا ہے۔ دوسری جانب، اس معاملے میں قانونی کارروائی کی حتمی نوعیت تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔