دارالحکومت دہلی کے مکند پور علاقے سے ایک ایسا لرزہ خیز اور چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے جس نے انسانیت کو شرمسار کر دیا ہے۔ مکند پور میں 10 ماہ کی معصوم بچی کے مبینہ اغوا اور قتل کے کیس میں پولیس نے ایک بڑا اور سنسنی خیز انکشاف کیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق، بچی کا باپ ہی اس کا قاتل نکلا ہے، جس نے اپنا جرم قبول کر لیا ہے۔
خوفناک واردات کیسے ہوئی؟
پولیس ذرائع سے حاصل معلومات کے مطابق، ملزم نے پہلے سے طے شدہ سازش کے تحت ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات اپنی بیوی اور بڑی بیٹی کے کھانے یا پینے کی چیز میں کوئی نشہ آور مادہ ملا کر انہیں دے دیا۔ جب دونوں بے ہوش ہو گئیں، تو ملزم نے 10 ماہ کی معصوم بچی کا گلا گھونٹ کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔
واردات کو چھپانے کے لیے ملزم نے بچی کی لاش کو گھر کے قریب واقع ایک سیپٹک ٹینک 'میں پھینک دیا۔ اتوار کی صبح خاندان کے دیگر افراد کو گمراہ کرنے کے لیے یہ کہانی گھڑی گئی کہ بچی اس وقت لاپتہ ہوئی جب اس کا باپ باہر دودھ لینے گیا تھا۔ بچی کے دادا نے بھی پولیس کو یہی بتایا تھا کہ جب ان کا بیٹا گھر لوٹا تو بچی غائب تھی۔
کیسےکھلا راز؟
اتوار کے روز جب پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کی تو ابتدا میں ہی والد کے بیانات میں تضاد پایا گیا۔ شک ہونے پر جب پولیس نے ملزم سے سختی سے پوچھ گچھ کی، تو وہ ٹوٹ گیا اور اپنا ہولناک جرم تسلیم کر لیا۔ پولیس نے ملزم کی نشاندہی پر سیپٹک ٹینک سے بچی کی لاش برآمد کرنے کے لیے ایک بڑا سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور موقع پر تفتیشی ٹیمیں موجود ہیں۔
خاندان کے دیگر افراد بھی شک کے دائرے میں:
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم باپ کو حراست میں لے کر مسلسل پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ قتل کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی، پولیس کو شک ہے کہ اس گھناؤنے جرم میں خاندان کے کچھ دوسرے ارکان کا بھی بالواسطہ یا بلاواسطہ ہاتھ ہو سکتا ہے، یا انہیں اس کی پیشگی علم تھا۔
تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ باپ نے اپنی بچی کا قتل کیوں کیا،آخر کیا وجہ رہی ہوگی کہ انہوں نے ایسا قدم اٹھایا؟پولیس معاملے کی ہر زاویے سے باریک بینی سے جانچ کر رہی ہے اور جلد ہی باضابطہ پریس کانفرنس کے ذریعے مزید تفصیلات جاری کیے جانے کی امید ہے۔