مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن آج صبح 11 بجے بجٹ پیش کریں گی ۔وہ مسلسل نوویں بار ملک کا بجٹ پیش کرنے جا رہی ہیں۔ یہ تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے کہ اتوار کے دن بجٹ پیش کیا جائے گا۔ بجٹ سے پہلے جاری کیے گئے اقتصادی سروے میں بھارت کی ترقی کی شرح 7 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ مالی سال 2026-27 میں مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) 6.8 سے 7.2 فیصد کے درمیان رہ سکتی ہے۔
بجٹ میں ہو سکتے ہیں یہ بڑے اعلان:
حکومت سونے اور چاندی پر لگنے والی کسٹم ڈیوٹی 6 فیصد سے کم کرکے 4 فیصد کر سکتی ہے۔ اس سے سونا خریدنا سستا ہو جائے گا۔ انکم ٹیکس پر معیاری کٹوتی کی حد 75,000 سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کی جا سکتی ہے۔ اس سے 13 لاکھ روپے تک کی آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں دینا پڑے گا۔ پردھان منتری کسان سمان یوجناکی رقم 6,000 روپے سے بڑھا کر 9,000 روپے کی جا سکتی ہے۔ 300 سے زیادہ نئی ٹرینوں کا اعلان ہو سکتا ہے۔
اقتصادی سروے میں کیا کیا کہا گیا ہے؟
اقتصادی سروے میں مفت کی سکیموں پر انتباہ دیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ ان سے سکولوں، ہسپتالوں اور سڑکوں کے لیے مختص رقم متاثر ہو رہی ہے۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ عالمی معاشی حالات غیر یقینی اور نازک بنی ہوئی ہیں، لیکن بھارت کا مجموعی نقطہ نظر مثبت ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کئی معیشتوں کے مقابلے میں بھارت کی ترقی توقع سے بہتر رہی ہے، لیکن عالمی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے خطرات موجود ہیں۔
گزشتہ بجٹ میں کیے گئے اہم اعلانات یہ تھے۔
12 لاکھ روپے تک کی آمدنی پر کوئی انکم ٹیکس نہ لگانے کا بڑا اعلان۔ اسٹارٹ اپس کے لیے 100 ارب روپے کے نئے فنڈ کا اعلان۔ کینسر سمیت دیگر سنگین بیماریوں کی 36 ادویات، میڈیکل آلات، ایل ای ڈی، کپڑے، موبائل بیٹری، چمڑے کی جیکٹ، چمڑے کے جوتوں پر برآمداتی ٹیکس میں کمی۔ دفاعی شعبے کے لیے 6.81 لاکھ کروڑ اور ریلوے کے لیے 2.55 لاکھ کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔ 200 نئی وندے بھارت اور 100 امرت بھارت ٹرینوں کا اعلان ہوا تھا۔
بجٹ کیا ہوتا ہے؟
بجٹ حکومت کی آمدنی اور اخراجات کی تفصیل ہوتی ہے۔ بجٹ پیش کرنے سے پہلے ایک سروے کرایا جاتا ہے، جس میں حکومت اندازہ لگاتی ہے کہ اسے براہ راست ٹیکس، بالواسطہ ٹیکس، ریلوے کے کرایوں اور مختلف وزارتوں کے ذریعے کتنی کمائی ہوگی۔ یہ بھی سامنے آتا ہے کہ آنے والے سال میں حکومت کا کتنا اندازہ شدہ خرچ ہوگا۔ آسان الفاظ میں بجٹ ایک سال میں ہونے والے اندازہ شدہ ریونیو (کمائی) اور اخراجات (اندازہ شدہ خرچ) کی تفصیل ہوتی ہے۔