دہلی میں سید فیض الٰہی مسجد کے قریب انسدادِ تجاوزات مہم کے دوران پیش آئے تشدد کے واقعے پر دہلی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا ہے اور پانچ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ کارروائی عدالت کے حکم پر دہلی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے مساجد اور قریبی قبرستان سے متصل زمین پر جاری تجاوزات ہٹانے کی مہم کے دوران کی جا رہی تھی۔پولیس حکام کے مطابق مہم کے دوران اچانک کچھ افراد نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ اور شیشے کی بوتلیں پھینکیں، جس کے نتیجے میں کم از کم پانچ پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ حالات پر قابو پانے کے لیے پولیس کو آنسو گیس کے گولے استعمال کرنے پڑے، جس کے بعد بھیڑ کو منتشر کیا گیا اور علاقے میں نظم و ضبط بحال کیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ پانچ افراد کو پوچھ تاچھ اور سی سی ٹی وی فوٹیج سے شناخت کی غرض سے حراست میں لیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی علاقے میں نصب کیمروں اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کا بھی تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ تشدد میں شامل دیگر افراد کی شناخت کی جا سکے۔ حراست میں لیے گئے افراد اور عینی شاہدین کے بیانات بھی درج کیے جا رہے ہیں۔ ایم سی ڈی نے واضح کیا کہ انہدامی مہم کے دوران سید فیض الٰہی مسجد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ ایم سی ڈی نے کہا کہ انہدام کی مہم دہلی ہائی کورٹ کی ہدایات کی تعمیل میں کی گئی۔
ڈی سی پی نِدھن والسَن نے بتایا کہ 6 جنوری کی رات کُھدائی اور انہدامی کارروائی انجام دی گئی، جس میں ایم سی ڈی کی مشینیں اور جے سی بی استعمال کی گئیں۔ زخمی پولیس اہلکاروں کو طبی امداد دی جا رہی ہے، جبکہ میڈیکل رپورٹ کے بعد قانونی کارروائی کی جائے گی۔ایم سی ڈی حکام کے مطابق مسجد کے قریب بینکوئٹ ہال اور ڈسپنسری غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی تھیں، جنہیں عدالت نے بھی خلافِ قانون قرار دیا تھا، اسی بنیاد پر یہ کارروائی انجام دی گئی۔
جماعت اسلامی ہند نے کی مذمت
دہلی کی مسجد فیض الٰہی کے احاطے میں ایم سی ڈی کی کاروائی پر جماعت اسلامی ہند کےنائب صدر ملک معتصم خان نے اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے ۔ انہوں نے اس کاروائی کو جانبدارانہ اور ظالمانہ قراردیا۔ انھوں نے کہاکہ یہ ظلم جانب داری، طاقت کا غلط استعمال، جاگیر دانہ عمل ہے۔ انھوں نے مطالبہ مسمار کی گئی جائیداد کا کمپنزیشن، زمین مسجد کمیٹی کےحوالے کرے۔ ملک صاحب نے کہاکہ ایم سی ڈی کےاس عمل سے سماج میں غلط پیغام جا رہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہےکہ مسجد اور وقف کی جائیداد غیر محفوظ ہیں۔ دنیا میں بھی غلط مسیج جا رہا ہے مسلمانوں کو ملک میں نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ انھوں نے بلڈوزر پالیسی کی سخت مذمت کی ہے۔
سماج وادی پارٹی لیڈر ایس ٹی حسن نے دہلی میں مسجد کے قریب انہدامی مہم پر سخت تبصرہ کیا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ آدھی رات کو بلڈوزر لانے کی کیا ضرورت تھی؟ انہوں نے ایس پی، رکن پارلیمنٹ محب اللہ ندوی کا بھی دفاع کیا۔