Friday, May 15, 2026 | 27 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • حکومت ہند کا بڑا فیصلہ، کیا پٹرول تین گنا مہنگا ہو سکتا ہے؟

حکومت ہند کا بڑا فیصلہ، کیا پٹرول تین گنا مہنگا ہو سکتا ہے؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: May 15, 2026 IST

حکومت ہند کا بڑا فیصلہ، کیا پٹرول تین گنا مہنگا ہو سکتا ہے؟
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے کشیدہ حالات اور امریکہ و ایران کے درمیان جاری تنازعے نے عالمی تیل منڈی کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے اثرات اب بھارت میں بھی واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ جمعہ 15 مئی سے ملک بھر میں پٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اطلاق ہو گیا ہے، جس کے بعد عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
 
دارالحکومت دہلی میں پٹرول کی قیمت میں 3.14 فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 97.77 فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل 3.11 مہنگا ہو کر 90.67 فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔ تیل کی بڑھتی عالمی قیمتوں کے باعث سی این جی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
 
حکومتی ذرائع کے مطابق، اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں موجودہ سطح سے دو سے تین گنا تک بڑھ سکتی تھیں۔ بتایا گیا ہے کہ تیل کمپنیاں اس وقت تقریباً 1000 کروڑ روپے یومیہ نقصان برداشت کر رہی ہیں تاکہ صارفین پر مکمل بوجھ نہ ڈالا جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پٹرول پر تقریبا 26 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 82 روپے فی لیٹر تک سبسڈی دی جا رہی ہے۔
 
حکومت نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پہلے ہی پٹرول پر 8 روپے اور ڈیزل پر 6 روپے فی لیٹر ٹیکس کم کیا ہوا ہے تاکہ عوام کو کچھ ریلیف دیا جا سکے۔ حکام کے مطابق اگر یہ رعایتیں نہ ہوتیں تو کسان، ٹرک ڈرائیورز اور آٹو رکشہ چلانے والے سب سے زیادہ متاثر ہوتے۔
 
ادھر حکومت نے کسانوں کو دی جانے والی کھاد سبسڈی کا بھی حوالہ دیا۔ حکام کے مطابق 50 کلو کھاد کا ایک تھیلا، جس کی عالمی مارکیٹ میں قیمت تقریبا 2200 روپے بنتی ہے، کسانوں کو صرف 242 روپے میں فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ باقی رقم حکومت ادا کر رہی ہے۔
 
بین الاقوامی صورتحال پر بات کرتے ہوئے حکومتی ذرائع نے کہا کہ دنیا کے تقریباً 82 ممالک اس وقت پٹرول اور ڈیزل کی راشننگ پر مجبور ہیں۔ جنوب مشرقی ایشیا میں تیل کی قیمتوں میں 50 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ یورپ میں بھی قیمتیں 20 فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بھارت نے اب تک ایسی سنگین صورتحال سے خود کو محفوظ رکھا ہے۔
 
وزیراعظم نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری غیر ملکی سفر کم کیا جائے، سونے کی خریداری محدود رکھی جائے اور ایندھن کی بچت کو ترجیح دی جائے۔ حکومت کے مطابق بھارتی گھروں میں تقریبا 30 ہزار ٹن سونا موجود ہے، جس کی مالیت 400 لاکھ کروڑ روپے کے قریب بتائی جا رہی ہے، جبکہ سونے کی درآمد ملک کے بڑے مالی بوجھوں میں شامل ہو چکی ہے۔
 
حکومت نے واضح کیا ہے کہ موجودہ بحران کسی اندرونی پالیسی ناکامی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک عالمی اور بیرونی بحران ہے، اور بھارت دباؤ میں آ کر فیصلے کرنے کے بجائے طویل مدتی حکمتِ عملی پر عمل کر رہا ہے۔