ملک کے 80ویں یوم آزادی کے موقع پر ہفتہ کو نئی دہلی میں کانگریس ہیڈکوارٹرمیں ’وندے ماترم‘ کا مکمل ورژن بجایا گیا۔ اس موقع پر کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی بھی موجود تھیں۔ ’وندے ماترم‘ سے متعلق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی سامنے آئی، جس میں کانگریس ہیڈکوارٹر میں اس کا مکمل ورژن بجتے ہوئے دکھایا گیا۔ کچھ سوشل میڈیا صارفین نے دعویٰ کیا کہ راہل گاندھی اور سونیا گاندھی نے اسے روکنے کا اشارہ کیا تھا۔ کانگریس نے اس دعوے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سونیا گاندھی ’وندے ماترم‘ روکنے کا اشارہ نہیں کر رہی تھی۔ پارٹی کے مطابق وہ صرف ملکارجن کھرگے کے لیے کرسی مانگ رہی تھیں کیونکہ پرچم کشائی کے دوران کھرگے مسلسل کھڑے رہے تھے۔
’وندے ماترم‘ پر سیاسی بحث
’وندے ماترم‘ گزشتہ کچھ عرصے سے سیاسی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ حکومت نے اس کے 150 سال مکمل ہونے کے موقع پر تقریبات منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ ’وندے ماترم‘ کو سرکاری تقریبات، اسکولز اور دیگر اہم قومی پروگراموں میں مکمل طور پر پیش کیا جائے۔ کانگریس نے حکومت کے اس اقدام پر اعتراض کرتے ہوئے بی جے پی پر قومی علامت کو سیاسی بحث کا حصہ بنانے کا الزام لگایا ہے۔
لال قلعے پر بھی مکمل ’وندے ماترم‘ بجایا گیا
یوم آزادی کے موقع پر نئی دہلی کے لال قلعے میں بھی ’وندے ماترم‘ کا مکمل ورژن بجایا گیا۔ آرمی بینڈ نے اس کی دھن پیش کی، جس کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے قومی پرچم لہرایا اور قومی ترانہ بجایا گیا۔
’وندے ماترم‘ کی تاریخ کیا ہے؟
’وندے ماترم‘ بنکم چندر چٹرجی نے لکھا تھا۔ یہ سب سے پہلے 7 نومبر 1875 کو ادبی رسالے ’بنگ درشن‘ میں شائع ہوا تھا۔ بعد میں بنکم چندر چٹرجی نے اسے اپنے ناول ’آنند مٹھ‘ میں شامل کیا، جو 1882 میں شائع ہوا۔ اس نظم کو بعد میں رابندر ناتھ ٹیگور نے موسیقی دی اور 1896 میں کلکتہ میں ہونے والے کانگریس کے اجلاس میں اسے پہلی بار گایا گیا۔ ’وندے ماترم‘ کا نعرہ آزادی کی تحریک کے دوران بھی مقبول ہوا۔ 7 اگست 1905 کو اسے سیاسی نعرے کے طور پر بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا، خاص طور پر برطانوی حکومت کی تقسیمِ بنگال کی پالیسی کے خلاف ہونے والی تحریک میں۔ یوں یوم آزادی کے موقع پر کانگریس ہیڈکوارٹر اور لال قلعے دونوں جگہ مکمل ’وندے ماترم‘ پیش کیے جانے نے اس قومی گیت کو ایک بار پھر سیاسی اور عوامی توجہ کا مرکز بنا دیا۔
لال قلعے پر مکمل ’وندے ماترم‘ بجانا ایک تاریخی تبدیلی تھی۔ 2026 کی یوم آزادی تقریب میں پہلی بار لال قلعے کی فصیل سے ’وندے ماترم‘ کو قومی ترانے سے پہلے پیش کیا گیا۔ پہلے ’وندے ماترم‘ بجایا گیا، اس دوران سب کو کھڑے رہنے کی ہدایت تھی، پھر وزیر اعظم نے قومی پرچم لہرایا اور اس کے بعد ’جن گن من‘ بجایا گیا۔اس سال کا فیصلہ صرف یوم آزادی تک محدود نہیں ہے۔ مرکز نے ’وندے ماترم‘ کے تمام چھ بند سرکاری تقریبات میں پیش کرنے کا پروٹوکول طے کیا ہے۔ مکمل ورژن تقریباً 3 منٹ 10 سیکنڈ کا ہے اور اسے قومی ترانے سے پہلے بجانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
وندے ماترم‘ کو قانونی تحفظ بھی مل چکا ہے۔ 2026 میں قانون میں ترمیم کے بعد قومی گیت کی بے حرمتی کو قومی ترانے کی بے حرمتی کی طرح قانونی جرم کے دائرے میں لایا گیا ہے۔ یہ تبدیلی بھی موجودہ تنازع اور حکومت کی جانب سے مکمل ورژن کو سرکاری تقریبات میں شامل کرنے کی مہم کا اہم حصہ ہے۔
کانگریس ہیڈکوارٹر کا واقعہ اسی بڑے سیاسی تنازع کے پس منظر میں ہوا۔ ایک طرف مرکز مکمل چھ بند پیش کرنے پر زور دے رہا ہے، جبکہ کانگریس سمیت بعض حلقے اس اقدام پر اعتراض کر رہے ہیں۔ کانگریس لیڈر ششی تھرور نے بھی حال ہی میں سرکاری تقریبات میں مکمل ورژن لازمی کرنے کے عملی پہلوؤں پر سوال اٹھائے تھے۔
ریاستوں میں بھی اس معاملے پر مختلف ردعمل سامنے آیا ہے۔ مثال کے طور پر کیرالہ حکومت نے یوم آزادی کے لیے اسکولزکو ’وندے ماترم‘ گانے کی کوئی لازمی ہدایت نہیں دی؛ وہاں قومی پرچم لہرانے اور ’جن گن من‘ بجانے کی ہدایت دی گئی۔