قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوال نے 2025 کے پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد بھارت کی جانب سے کیے گئےآپریشن سندور کے بارے میں اہم تفصیلات بتائی ہیں۔ ڈسکوری کی دستاویزی سیریز ’ڈی کلاسیفائیڈ: آپریشن سندور‘ میں اجیت دوال نے بتایا کہ حملے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے واضح ہدایت دی تھی کہ ذمہ دار افراد کو کسی بھی صورت انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
پہلگام حملے کے وقت سعودی عرب میں تھے مودی
22 اپریل 2025 کو پہلگام میں دہشت گرد حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں زیادہ تر سیاح شامل تھے۔ حملے کے وقت وزیر اعظم مودی سعودی عرب کے دورے پر تھے، لیکن واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد انہوں نے اپنا دورہ مختصر کر دیا اور بھارت واپس آگئے۔ اجیت دوال کے مطابق، وطن واپسی کے بعد مودی نے اعلیٰ حکام کے ساتھ فوری اجلاس منعقد کیا۔ وزیراعظم نے سب سے پہلے یہ جاننا چاہا کہ حملے کے پیچھے کون تھا اور اس کے ذمہ دار افراد کی شناخت کتنی جلد کی جا سکتی ہے۔ اجیت دوال نے بتایا کہ وزیراعظم نے واضح طور پر ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی ہدایت دی اور کہا کہ مجرموں کو زمین پر یا جہاں کہیں بھی ہوں، انصاف کا سامنا کرنا ہوگا۔
آپریشن سندور کا مقصد کیا تھا؟
اجیت دوال کے مطابق، بھارت نے آپریشن سندور کے لیے دہشت گردی کے ان مراکز کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا جو پہلگام حملے سے منسلک تھے۔ 7 مئی 2025 کو بھارتی مسلح افواج نے پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موجود دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے کاروائی کی ،بھارت نے اسے پہلگام حملے کا جواب قرار دیا۔ اجیت دوال نے کہا کہ اس کاروائی کے ذریعے پاکستان کو واضح پیغام دیا گیا کہ بھارت دہشت گردی کی حمایت یا دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کاروائی نہ کرنے کو برداشت نہیں کرے گا۔
’بھارت کی برداشت کو کمزوری نہ سمجھا جائے‘
آپریشن سندور کے بارے میں بات کرتے ہوئے اجیت دوال نے کہا کہ بھارت کی امن پسندی اور برداشت کو اس کی کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق، اگر ملک کی خودمختاری اور سلامتی کو خطرہ لاحق ہو تو بھارت ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے، چاہے اس کے نتائج کتنے ہی سنگین کیوں نہ ہوں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھی
آپریشن سندور کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کئی دن تک شدید فوجی کشیدگی جاری رہی۔ یہ فوجی تنازع تقریباً 88 گھنٹے تک جاری رہا اور 10 مئی 2025 کو دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق کے بعد رک گیا۔ بھارت نے اس کے بعد بھی یہ مؤقف برقرار رکھا کہ ضرورت پڑنے پرآپریشن سندور دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔
اجیت دوال کا پاکستان کو واضح پیغام
آپریشن سندور کے بعد اپنے پہلے انٹرویوں میں اجیت دوال نے کہا کہ بھارت کا پیغام بالکل واضح ہے: دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ضرورت کے مطابق کاروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ملک پر حملہ کرنے والوں کے خلاف سخت جواب دینے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
اجیت دوال نے بتایا کہ حملے کے فوراً بعد بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ذمہ داروں کی شناخت میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق انٹیلی جنس معلومات کی مدد سے بھارت نسبتاً کم وقت میں حملے کے ذمہ دار عناصر تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔
پہلگام حملے کے متاثرین نے دہشت گردوں کو مبینہ طور پر مودی کو پیغام دینے کا کہا تھا۔ اجیت دوال کے مطابق حملہ آوروں نے متاثرین کو یہ کہنے کی ہمت کی تھی کہ "جا کر مودی کو کہہ دو جو کر سکتا ہے کر لے"، جس نے بھارتی قیادت کے غصے کو مزید بڑھایا۔