غازی آباد جاسوسی کیس میں قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 13 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔ لکھنؤ کی خصوصی این آئی اے عدالت میں داخل کی گئی چارج شیٹ میں ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے ہندوستان کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کے خلاف سنگین مجرمانہ سازش رچی اور حساس و اہم تنصیبات سے متعلق معلومات دشمن ملک سے منسلک افراد اور اداروں تک پہنچائیں۔ این آئی اے کے مطابق، اس معاملے میں اس سے قبل 21 دیگر افراد کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ دیگر مشتبہ افراد اور ملزمان کے کردار کی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔
این آئی اے کی تحقیقات کے مطابق، ملزمان مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے اہم اور حساس علاقوں میں داخل ہوئے اور وہاں جاسوسی کے لیے کیمرے نصب کیے۔ ان کیمروں کے ذریعے حساس مقامات کی تصاویر اور ویڈیوز جمع کی گئیں۔ایجنسی کا الزام ہے کہ ان تصاویر اور ویڈیوز کے ساتھ جیو ٹیگنگ ڈیٹا، یعنی مقام سے متعلق معلومات بھی موجود تھیں، جنہیں مبینہ طور پر دشمن ملک سے منسلک افراد یا اداروں تک پہنچایا گیا۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملزمان نے مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے ہندوستانی سم کارڈز کی خریداری اور استعمال میں بھی مدد فراہم کی۔
این آئی اے کی چارج شیٹ میں پروین، راج والمیکی، شیوا والمیکی، ریتک گنگوار، سمیر، درگیش، نوشاد، گگن کمار، وویک، شیوراج، میرا ٹھاکر اور شین ارم عرف مہک سمیت 13 افراد کو ملزم بنایا گیا ہے۔اس معاملے میں مبینہ طور پر ملوث پانچ نابالغوں کے خلاف تحقیقاتی رپورٹ پہلے ہی 18 مئی 2026 کو غازی آباد کے جووینائل جسٹس بورڈ کے سامنے پیش کی جا چکی ہے۔
یہ مقدمہ ابتدائی طور پر 14 مارچ 2026 کو غازی آباد کے کوشامبی پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا۔ مقدمے میں بھارتیہ نیا سنہتا (BNS) 2023 کی دفعات 61(2) اور 152 کے علاوہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی دفعات 3 اور 5 کے تحت الزامات عائد کیے گئے۔بعد ازاں تحقیقات کے دوران غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ، یعنی یو اے پی اے کی دفعہ 18 کو بھی مقدمے میں شامل کر لیا گیا۔این آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزمان کی مبینہ سرگرمیوں سے ملک کی خودمختاری، اتحاد، سالمیت اور قومی سلامتی کو سنگین خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔ ایجنسی کے مطابق معاملے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں اور دیگر ملزمان و مشتبہ افراد کے کردار کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔