نئی دہلی : آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ سمیت تمام ملی تنظیموں اور ملک کے تمام مسلمانوں اور انصاف پسند شہریوں کے سخت اعتراض کے باوجود وقف ترمیمی بل 2024 لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے منظور کرلیا گیا اس پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد فضل الرحیم مجددی صاحب نے کہا کہ وقف ترمیمی بل 2024 کا منظور ہوجانا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے لئے سیاہ باب اور کلنک ہے بر سر اقتدار طبقہ طاقت کے نشے میں مدہوش ہوکر آگے بڑھ رہا ہے اور اپنی غلطیوں وخامیوں کو چھپانے کے لئے ملک میں منافرت کا ماحول قائم کر رہا ہے جس کا ایک حصہ وقف ترمیمی بل بھی ہے۔
مسلمانوں کی ہمدردی کے نام پر لایا گیا یہ قانون مسلمانوں کے لئے ناقابلِ قبول ہے اور وقف جائیدادوں کے لئے تباہ کن بھی! افسوس کی بات ہے کہ حکومت وقت نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر ملی تنظیموں کے مطالبے پر کوئی توجہ نہیں دی،اسی طرح اپوزیشن پارٹیز کے ارکان پارلیمنٹ اور سول سوسائٹی کی بات بھی نہیں سنی، ایک جمہوری ملک میں یہ آمرانہ رویہ نا قابلِ قبول ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اس پر ہرگز خاموش نہیں بیٹھے گا بلکہ ملک گیر احتجاج کی راہ ہموار کرے گا اور بھرپور تیاری کے ساتھ قانونی کارروائی بھی کرےگا، قانونی کارروائی کی تیاری اور احتجاج کے سلسلے میں مشاورت کا سلسلہ جاری ہے، عنقریب اس کا اعلان کر دیا جائے گا اور پوری قوت کے ساتھ آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پر امن مگر مسلسل اور مضبوط احتجاج کیا جائے گاان شاءاللہ۔
ہم نہ صرف مسلمانوں بلکہ ملک کے انصاف پسند شہریوں سے بھی گذارش کرتے ہیں کہ وہ بورڈ کے اعلان کا انتظار کریں اور جب احتجاج کے لئے آوازدی جائے پوری طاقت کے ساتھ اس میں شامل ہوں تاکہ حکومت کو اپنی غلطی کا احساس ہو اور اس قانون کی واپسی کا دروازہ کھل سکے۔ہم یہ واضح کر دینا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ وقف ترمیمی بل اپنے مشمولات کے اعتبار سے نہایت نقصان دہ اور تباہ کن ہے اس کی وجہ سے بہت سی دشواریاں اور مسائل کھڑے ہو جائیں گے اس لئے بہر صورت اسے حکومت کو واپس لینا چاہئے۔
لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں وقف ترمیمی بل 2024 کے پیش ہونے کے بعد اپوزیشن پارٹیز کے ممبران پارلیمنٹ نے جس بیدار مغزی، تیاری اور احساس ذمےداری کے ساتھ اس بل کی مخالفت کی اور مسلمانوں کے موقف کو واضح کیا وہ خوش آئند بات ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ وقف ترمیمی بل 2024 کی مخالفت کرنے والی تمام اپوزیشن پارٹیز اُن کے سربراہان اور ارکان پارلیمنٹ کا شکر گزار ہے اور ان کے عمل و اقدام کی تحسین کرتا ہے اور اُمید رکھتا ہے کہ وہ آئندہ بھی وقف ترمیمی بل کو روکنے کے سلسلے میں کی جانے والی تمام کوششوں میں شانہ بشانہ شریک ہوں گے۔
اسی طرح بی جے پی کی حلیف پارٹیز اور اُن کے سربراہان خاص طریقے پر نتیش کمار، چندرابابو نائیڈو،چراغ پاسوان اور جینت چودھری نے اس سلسلے میں جو کردار نبھایا ہے اور جس طرح مسلمانوں کو چھوڑ کرحکومت وقت کا ساتھ دیا ہے وہ نہایت درجہ تکلیف دہ اور افسوس ناک ہے۔وقف ترمیمی بل کے سلسلے میں ان کے رخ اور رویے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے مسلمانوں نے ان حضرات کی سیکولر شبیہ کی وجہ سے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا ہے لیکن ان لوگوں نے جس طرح مسلمانوں کو دھوکہ دیا اسے کبھی بھلایا نہیں جائےگا اور ہر حال میں انہیں اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔
ان پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے لئے بھی غور کرنےکا مقام ہے کہ اس بے وفائی کے بعد ان کا رد عمل کیا ہونا چاہئے اور بہ حیثیت مسلمان انہیں کیا راستہ اپنانا چاہئے، ملت کو چھوڑ کر سیاسی مفادات کی پاسداری کرنا گھناؤنا عمل ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ کسی بھی دباؤ دھمکی یا غلط رویے اور طرز عمل کی وجہ سے بورڈ اپنے مطالبات سے دست بردار نہیں ہوگا۔ وقف ترمیمی بل کے سلسلے میں جب اور جس طرح کی قربانی درکار ہوگی پیش کی جائے گی اور اس لڑائی میں بورڈ تنہا نہیں ہوگا بلکہ پوری ملت اسلامیہ ہندیہ اس کے ساتھ کھڑی ہوگی۔