یکم مئی 2025 کو ضلع اقلیتی بہبود افسر نے اتر پردیش کے شراوستی ضلع میں واقع مدرسہ اہل سنت امام احمد رضا کو بند کرنے کا حکم دیا تھااور مدرسہ کو تالہ لگا دیا گیا تھا۔جسکے بعد مدرسہ کمیٹی نے اس حکم کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ میں اپیل کی۔ اب عدالت نے اس معاملے میں اہم فیصلہ سنایا ہے۔ اس فیصلے سے مدرسہ کمیٹی اور مدارس اسلامیہ کو بڑی راحت ملی ہے۔اپنے فیصلے میں الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے شراوستی ضلع اقلیتی افسر کے اہل سنت امام احمد رضا کو بند کرنے کے فیصلے کو پلٹ دیا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ مدرسے پر لگی مہر (سیل)24 گھنٹے کے اندر کھولی جائے۔
رپورٹ کے مطابق الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ کسی تعلیمی بورڈ سے منظوری حاصل کئے بغیر بھی اقلیتی مدارس چلائے جا سکتے ہیں۔
تاہم عدالت نے یہ واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 30(1) کے تحت تحفظ حاصل ہونے کے باوجود بغیر منظوری والے مدرسے کو سرکاری امداد، بورڈ امتحانات اور ریاستی سرٹیفکیٹ کا فائدہ نہیں ملے گا۔
مدرسوں کو بھارتی آئین سے حاصل ہے تحفظ:
مدرسہ مینیجر عبد الرحمن کی درخواست پر ان کے وکلاء سید فاروق احمد اور دیویندر موہن شکلا نے انجم قادری بمقابلہ یونین آف انڈیا میں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مؤکل نے مدرسے کے لیے نہ تو سرکاری امداد مانگی ہے اور نہ ہی منظوری۔ اس لیے انہیں بھارتی آئین کے آرٹیکل 30(1) کے تحت تحفظ حاصل ہے۔
اقلیتی اداروں کی تین اقسام ہوتی ہیں:
وکیل نے کیرالہ ایجوکیشن ایکٹ 1957، 1958 اور 1957 میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا بھی ذکر کیا، جس کے تحت اقلیتی تعلیمی اداروں کو تین کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے:
وہ اقلیتی تعلیمی ادارے جو ریاست سے کوئی مالی امداد نہیں مانگتے اور نہ ہی منظوری مانگتے ہیں۔
وہ جو ریاست سے مالی امداد نہیں مانگتے، لیکن منظوری مانگتے ہیں۔
وہ جو مالی امداد اور منظوری دونوں مانگتے ہیں۔
اس فیصلے سے بغیر سرکاری امداد اور منظوری کے چلنے والے مدرسوں کو آئینی تحفظ حاصل ہونے کی وجہ سے بڑی راحت ملی ہے، اور عدالت کے حکم پر مدرسہ دوبارہ کھولا جا ئے گا۔