Monday, May 25, 2026 | 07 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • مناسک حج کا آج سے آغاز،حجاجِ کرام کی منیٰ میں آمد

مناسک حج کا آج سے آغاز،حجاجِ کرام کی منیٰ میں آمد

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 25, 2026 IST

  مناسک حج کا آج سے آغاز،حجاجِ کرام  کی منیٰ  میں آمد
آج یعنی ،8 ذی الحجہ  سے مناسک حج کابا قاعدہ  آغاز ہو چکا ہے۔عازمین آج منیٰ میں قیام کریں گے، سفید احرام میں ملبوس فرزندانِ توحید لبیک اللہم لبیک کی صداؤں کے ساتھ منیٰ کی جانب رواں دواں ہیں، جہاں روح پرور مناظر ہر طرف ایمان تازہ کر رہے ہیں۔حجاج کرام   8 ذی الحجہ کی ظہر سے لے کر ۹ذی الحجہ کی فجر تک پانچ نمازیں منیٰ میں ادا  کرتے ہیں۔
 
آج کی رات شبِ عرفہ  ہے ،جو بڑی بابرکت رات ہے۔ حجاج آج کی رات منیٰ میں ذکر و عبادت، توبہ و استغفار اور دعا میں مشغول رہتے ہوئے رات گزارتے ہیں۔
 
حج کا سب سے اہم رکن وقوفِ عرفہ کل 9 ذوالحجہ کو ادا کیا جائے گا،اس کے بعد حجاج مزدلفہ روانہ ہوں گے جہاں رات قیام کے بعد رمی کے لیے کنکریاں جمع کی جائیں گی۔ پھر 10 ذوالحجہ کو جمرات پر رمی، قربانی اور طوافِ زیارت جیسے اہم مناسک ادا کیے جائیں گے۔
 
یوم عرفہ اور عرفات کیا ہیں؟
 
عَرَفات عَرَفہ کی جمع ہے۔ ذو الحجہ  کی نویں تاریخ کو بھی عرفہ کہتے ہیں اور عرفات میدان کو بھی ، مگر لفظ عرفات صرف میدان کو کہا جاتا ہے نہ کہ اس دن کو۔ چونکہ اس جگہ کا ہر حصہ عرفہ ہے اس لئے جمع کا لفظ عرفات استعمال کیا جاتا ہے۔ 
 
عَرف کا ایک معنی عطیہ بھی ہے ، اللہ پاک اس دن حاجیوں کو مغفرت کا تحفہ دیتا ہے ، اس لئے اسے عَرَفہ کہتے ہیں۔تمام حجاج وہاں پہنچ کر اپنے گناہوں کا اقرار وا عتراف کرتے ہیں اس لئے یہ عَرَفہ کہلاتا ہے۔
 
میدانِ عرفات ، مکہ سے مشرق کی جانب طائف کی راہ پر تقریباً 20 کلو میٹر اور مِنیٰ سے تقریباً 11 کلو میٹر کے فاصلے پر ایک بڑا وسیع و عریض میدان ہے۔ یہ میدان شمال سے جنوب تک 12 کلو میٹر اور مشرق سے مغرب تک پانچ کلو میٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ شمالی جانب سے عرفات نامی پہاڑی سلسلے میں گھرا ہوا ہے۔ میدانِ عرفات کے درمیان میں موجود جبلِ رحمت کے قریب جہاں سیاہ پتّھر کا فرش ہے وہاں وُقُوف کرنا افضل ہے۔
 
9ذُوالْحِجَّہ کو دوپہر ڈھلنے (یعنی نَمازِ ظہر کا وَقت شروع ہونے) سے لے کر دسویں کی صبحِ صادِق کے دَرمِیان جو کوئی اِحرام کے ساتھ ایک لمحے کے لئے بھی عَرَفات ِپاک میں داخِل ہواوہ حاجی ہوگیا ، یہاں کا وُقوف حج کا رُکنِ اعظم ہے۔ 
 
اس موقع پر سعودی حکومت کی جانب سے حجاج کے قیام، سکیورٹی، صحت اور سفری سہولیات کے لیے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ ہر حاجی آسانی اور سکون کے ساتھ مناسکِ حج ادا کر سکے۔
 
وہیں دوسری جانب دنیا بھر کے مسلمان ان مقدس لمحات میں حجاجِ کرام کے لیے خصوصی دعائیں کر رہے ہیں۔ حج نہ صرف عبادت بلکہ اتحاد، مساوات، صبر اور قربانی کا عظیم درس بھی دیتا ہے، جہاں رنگ، نسل اور زبان کی تفریق مٹ جاتی ہے اور ہر طرف صرف بندگیٔ رب کا منظر دکھائی دیتا ہے۔