نیپال کے کاکربھٹہ چیک پوسٹ پر ایک بھارتی شہری کو بھاری مقدار میں غیر ملکی کرنسی اور سونے کے ساتھ گرفتار کیے جانے کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ حاصل معلومات کے مطابق، بھارتی شہری پرم پاٹھک کو نیپال کی مسلح پولیس فورس نے معمول کی تلاشی کے دوران حراست میں لیا۔ تلاشی کے دوران اس کے پاس سے 20 ہزار امریکی ڈالراور تقریباً 570 گرام وزنی سونے کے 6 بسکٹ (بٹے) برآمد ہوئے، جس کے بعد اسے مزید قانونی کارروائی کے لیے نیپال کسٹمز ڈپارٹمنٹ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
کسٹمز ڈپارٹمنٹ نے لیا 6 دن کا ریمانڈ، ویزا اور بلز کی جانچ جاری:
ذرائع کے مطابق، نیپال کسٹمز ڈپارٹمنٹ نے پرم پاٹھک کو عدالت میں پیش کر کے 6 دنوں کے جسمانی ریمانڈ پر لے لیا ہے اور معاملے کی گہرائی سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ کسٹمز حکام اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ برآمد شدہ غیر ملکی کرنسی اور سونا قانونی طریقے سے لایا جا رہا تھا یا یہ اسمگلنگ کا معاملہ ہے۔
دوسری طرف، گرفتار نوجوان کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ جو سونا برآمد ہوا ہے، وہ بھارت سے ہی خریدا گیا تھا اور اس کے تمام قانونی اور جائز بلز (Bills) ان کے پاس موجود ہیں۔
خاندان کا دعویٰ: نوجوان ذہنی طور پر غیر مستحکم ہے:
اس پورے معاملے میں پرم پاٹھک کے اہل خانہ نے ایک اہم دعویٰ کیا ہے کہ پرم کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے اور وہ ذہنی طور پر غیر مستحکم ہے۔
پرم پاٹھک کے والد پُنیت پاٹھک بھارت کے ایک مقتدر تاجر بتائے جاتے ہیں، جو 'پرم انٹرپرائزز' نامی کمپنی کے مالک ہیں۔ یہ کمپنی ریلوے انجینئرنگ میٹریل اور تعمیراتی کاموں (Construction Work) سے وابستہ ہے اور اس کا سالانہ کاروبار کروڑوں روپے کا ہے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ کاروباری پس منظر ہونے کی وجہ سے ان کے پاس رقم کے تمام دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔
بھارتی حکام سے مداخلت کی اپیل:
معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پرم پاٹھک کے والد پنیت پاٹھک اس وقت خود نیپال کے سرحدی علاقے کاکربھٹہ میں موجود ہیں اور کسٹمز حکام سے بات چیت کر کے معاملے کو سلجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پاٹھک خاندان نے بھارتی حکومت، سفارت خانے اور متعلقہ ایجنسیوں سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اس معاملے میں مداخلت کرنے اور نوجوان کی مدد کرنے کی اپیل کی ہے۔ فلحال نیپال کسٹمز ڈپارٹمنٹ قانون کے مطابق تفتیش کو آگے بڑھا رہا ہے اور اگلی کاروائی ان کی فائنل انکوائری رپورٹ کی بنیاد پر طے کی جائے گی۔