آج سوال صرف ایک امتحان کا نہیں، لاکھوں خوابوں کا ہے۔ 21 جون کو ہونے والے NEET 2026 امتحان سے پہلے ایک بار پھر پیپر لیک کے دعووں نے پورے ملک میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ہزاروں طلبہ جو دن رات محنت کر رہے ہیں، ان کے ذہن میں ایک ہی سوال گردش کر رہا ہے: کیا واقعی سوالیہ پرچہ لیک ہو چکا ہے یا پھر ایک بار پھر طلبہ کے خوف اور بے بسی کو کاروبار میں بدلا جا رہا ہے؟
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب کئی ٹیلی گرام چینلز نے دعویٰ کرنا شروع کیا کہ ان کے پاس امتحان کے “اصل سوالات” موجود ہیں۔ ان چینلز پر مبینہ طور پر طلبہ کو جلدی فیصلہ لینے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اگر ابھی پیپر نہ خریدا گیا تو موقع ہاتھ سے نکل جائے گا۔
مبینہ طور پر اس پورے نیٹ ورک میں کروڑوں روپے کے لین دین کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ اعتماد حاصل کرنے کے لیے بڑے بینک بیلنس کے اسکرین شاٹس، پاس ورڈ سے محفوظ فائلیں اور مختلف مضامین کے نام سے مبینہ سوالیہ مواد دکھایا جا رہا ہے تاکہ طلبہ کو یقین دلایا جا سکے کہ یہی اصل پرچہ ہے۔
اس پورے معاملے کو سامنے لانے کا دعویٰ گجرات کے احمد آباد سے تعلق رکھنے والے ایک سوشل ورکر اور طالب علم شبہم ویرین ٹھاکر نے کیا۔ ان کے مطابق انہوں نے اس نیٹ ورک سے رابطہ کیا اور مبینہ گفتگو کے دوران ایک شخص نے خود کو “راگھو سر” اور کیمسٹری ٹیچر بتایا۔ شبہم کے مطابق اس شخص نے بڑے نیٹ ورک، سیاسی رسوخ اور ہزاروں طلبہ تک رسائی کے دعوے بھی کیے۔
شبہم کا کہنا ہے کہ انہوں نے مبینہ کال ریکارڈنگز، فائلز اور دیگر مواد متعلقہ سائبر حکام کے حوالے کر دیے ہیں اور اب معاملہ جانچ کے مرحلے میں ہے۔
تاہم ایک بات واضح ہے: اب تک کسی سرکاری ادارے کی جانب سے NEET 2026 کا پیپر لیک ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ ایسے میں کسی بھی غیر مصدقہ دعوے پر یقین کرنا طلبہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اب سوال صرف اتنا ہے کہ اگر یہ فراڈ ہے تو اسے روکنے میں تاخیر کیوں؟ اور اگر کہیں نظام میں کمزوری موجود ہے تو اسے وقت رہتے درست کون کرے گا؟
طلبہ اور والدین سے اپیل ہے کہ کسی بھی غیر مصدقہ ٹیلی گرام چینل، پیسے مانگنے والے گروپ یا “گارنٹیڈ پیپر” کے جھانسے میں نہ آئیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع سائبر ہیلپ لائن 1930 پر دیں۔