سابق وزیر اور سدی پیٹ کے ایم ایل اے ٹی ہریش راؤ فون ٹیپنگ کیس کے سلسلے میں پوچھ گچھ کے لیے آج 20 جنوری منگل کو خصوصی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے۔ہریش راؤ فون ٹیپنگ کیس میں حکام کے روبرو پیش ہونے سے قبل تلنگانہ بھون پہنچے ،جہاں پارٹی کے دیگر قائدین اور کارکنوں نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ ایس آئی ٹی نے ہریش راو کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آج فون ٹیپنگ کیس میں پوچھ تاچھ کیلئے پیش ہونے کی ہدایت دی تھی۔ واضح رہے کہ اس کیس میں ایس آئی ٹی پہلے ہی کئی افراد کو نوٹس جاری کرچکی ہے اور ان سب سے پوچھ تاچھ کرتے ہوئے تحقیقات کو آگے بڑھا رہی ہے۔
جب وہ انکوائری کے لیے پہنچے تو حیدرآباد میں دفتر کے اندر اور اس کے ارد گرد پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔ہریش راؤ 11 بجے کے قریب جوبلی ہلز اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس (اے سی پی) کے دفتر پہنچے، ذرائع کے مطابق ہریش راؤ کے ساتھ آنے والے وکلاء کو اے سی پی کے دفتر کے اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ پوچھ گچھ اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) کے جاری کردہ سمن کے بعد ہوئی، جس میں کہا گیا تھا کہ تحقیقات سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ ایم ایل اے کو کیس سے متعلق کچھ حقائق اور حالات کا علم ہے اور ان کی جانچ ضروری ہے۔
خصوصی ٹیم تشکیل:
تلنگانہ حکومت نے حال ہی میں 10 رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے، جس کی سربراہی حیدرآباد پولیس کمشنر وی سی سججنار کر رہے ہیں۔ یہ ٹیم کیس کی تحقیقات کو تیز کرنے کے لیے بنائی گئی ہے، جو تقریباً 21 ماہ پہلے درج ہوا تھا۔ کیس اسپیشل انٹیلی جنس برانچ (SIB) کے ذریعے فونز کی غیر قانونی نگرانی کے الزامات سے متعلق ہے، جو مبینہ طور پر بھارت راشٹر سمیتی (BRS) کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی گئی تھی۔
خیال رہے کہ یہ کیس مارچ 2023 میں سامنے آیا تھا جب سابق SIB ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پرنیت راؤ (Praneeth Rao)کو ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے اعلیٰ افسر، ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ڈی رمیش کی شکایت پر یہ گرفتاری عمل میں آئی تھی، جنہوں نے الزام لگایا تھا کہ پرنیت راؤ نے کئی سینئر سیاسی رہنماؤں اور سرکاری افسران کے فون کالز کی غیر مجاز نگرانی کی تھی۔
یہ پہلا موقع ہے جب SIT نے کسی سینئر BRS رہنما کو فون ٹیپنگ کیس میں پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا ہے۔ BRS کی جانب سے اسے کانگریس حکومت کی سیاسی انتقامی کاروائی قرار دیا جا رہا ہے۔