Friday, May 15, 2026 | 27 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • نئی دہلی: برکس اجلاس کے دوران ہنگامہ، ایران اور متحدہ عرب امارات کے نمائندے آمنے سامنے

نئی دہلی: برکس اجلاس کے دوران ہنگامہ، ایران اور متحدہ عرب امارات کے نمائندے آمنے سامنے

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: May 15, 2026 IST

نئی دہلی: برکس اجلاس کے دوران ہنگامہ، ایران اور متحدہ عرب امارات کے نمائندے آمنے سامنے
نئی دہلی میں منعقدہ برکس وزرائے خارجہ اجلاس کے دوران اس وقت کشیدہ صورتحال پیدا ہوگئی جب ایران اور متحدہ عرب امارات کے نمائندوں کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوگئی۔ معاملہ اس حد تک بڑھ گیا کہ روس کو بیچ بچاؤ کے لیے مداخلت کرنا پڑی۔
 
اطلاعات کے مطابق، ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اجلاس کے دوران متحدہ عرب امارات پر الزام عائد کیا کہ وہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مدد کر رہا ہے۔ ایران نے دعویٰ کیا کہ متحدہ عرب امارات نے امریکہ اور اسرائیل کو اپنی فضائی حدود، فوجی اڈوں اور انٹیلی جنس نظام تک رسائی فراہم کی۔
 
ایران کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ اس نے متحدہ عرب امارات پر براہ راست حملہ نہیں کیا بلکہ صرف وہاں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا تھا، اور یہ کارروائی اپنے دفاع میں کی گئی۔
 
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے نمائندوں نے ایران کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تنازع کے دوران ایران نے براہ راست ان کے ملک کو نشانہ بنایا اور توانائی کی تنصیبات پر حملے کیے۔ حالیہ ہفتوں میں دونوں ممالک کے درمیان اسی معاملے پر شدید بیان بازی جاری رہی ہے۔
 
اجلاس کے ایک سیشن کے دوران ایران کے نائب وزیر خارجہ اور متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور خلیفہ شاہین المرار کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی، جس کے بعد روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کو مداخلت کرنا پڑا تاکہ صورتحال مزید خراب نہ ہو۔
 
ذرائع کے مطابق، ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات کی وجہ سے برکس ممالک مغربی ایشیا کی صورتحال پر کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں ناکام رہے۔
 
اس دوران ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے سفارت کاری، امن اور مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معیشت کے استحکام کے لیے یہ بے حد ضروری ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی سرگرمیاں بلا رکاوٹ جاری رہیں اور خطے میں کشیدگی کم کی جائے۔