Wednesday, September 09, 2026 | 25 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • کارتک جین کے نام سے جعلی جی ایس ٹی رجسٹریشن کا معاملہ

کارتک جین کے نام سے جعلی جی ایس ٹی رجسٹریشن کا معاملہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Sep 09, 2026 IST

کارتک جین کے نام سے جعلی جی ایس ٹی رجسٹریشن کا معاملہ
حیدرآباد میں ایک شخص کی شناختی دستاویزات کا مبینہ طور پر غلط استعمال کرکے اس کے نام پر جعلی جی ایس ٹی رجسٹریشن حاصل کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس معاملے میں دہلی کے رہائشی کارتک جین کو 32.57 کروڑ روپے کے مجوزہ جرمانے کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
 
کارتک جین کے مطابق وہ نہ کبھی حیدرآباد یا تلنگانہ میں رہے ہیں، نہ یہاں کوئی کاروبار کیا اور نہ ہی ان کا کوئی دفتر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے جین انٹرپرائزز کے نام سے جی ایس ٹی رجسٹریشن کے لیے درخواست نہیں دی اور نہ ہی کسی دوسرے شخص کو اپنی طرف سے یہ رجسٹریشن حاصل کرنے کی اجازت دی۔
 
جین کو اکتوبر 2024 میں معلوم ہوا کہ ان کی ذاتی معلومات کا استعمال کرکے جی ایس ٹی رجسٹریشن حاصل کی گئی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے حیدرآباد جی ایس ٹی کمشنریٹ کے پرنسپل کمشنر سے رابطہ کیا اور اپنے 'PAN' کو جی ایس ٹی ریکارڈ سے ہٹانے کے ساتھ معاملے کی جانچ کی درخواست کی۔
 
 32.57 کروڑ روپے کے جرمانے کا نوٹس
حال ہی میں جی ایس ٹی حکام نے جین کو نوٹس جاری کیا، جس میں 'CGST' ایکٹ 2017 کی دفعہ 122 کے تحت 32,57,40,022 روپے کے جرمانے کی تجویز دی گئی۔ حکام کے مطابق ان کا 'PAN' مبینہ طور پر جعلی جی ایس ٹی رجسٹریشن سے منسلک تھا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق جین انٹرپرائزز کے نام سے حاصل کی گئی اس رجسٹریشن کو روشن نامی شخص چلا رہا تھا۔
 
جین نے پہلے دہلی کے سائبر پولیس اسٹیشن سے رابطہ کیا اور بعد میں سائبرآباد 'EOW' میں شکایت درج کرائی۔ پولیس نے 'BNS' کی مختلف دفعات اور آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 66-C اور 66-D کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
 
 اگست میں 47 سائبر ملزمان گرفتار
حیدرآباد سائبر کرائم پولیس نے اگست میں 36 معاملات میں سات ریاستوں سے 47 افراد کو گرفتار کیا۔ پولیس نے ان کاروائیوں کے دوران 99.79 لاکھ روپے کی رقم واپس حاصل کی۔ اسی دوران پولیس نے اگست میں 65 ایف آئی آر بھی درج کیں۔ نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل کے ذریعے زونل سائبر سیلز کو 2,952 شکایات موصول ہوئیں۔
 
ان شکایات کی بنیاد پر 16 مقدمات میں 349 ایف آئی آر درج ہوئیں اور 20 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان معاملات میں متاثرین کو مجموعی طور پر 41.05 لاکھ روپے واپس کیے گئے۔